
نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س)۔
دہلی ہائی کورٹ نے جنتر منتر پر نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کے دوران دہلی پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیے جانے کے دعووں کی تحقیقات کا مطالبہ کرنے والی مفادِ عامہ کی عرضی خارج کر دی۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ اس عرضی میں کوئی مفادِ عامہ شامل نہیں ہے۔
یہ عرضی نتن نریش نے دائر کی تھی۔ عرضی گزار نے خود کو ایک میڈیا کارکن بتایا ہے۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ میڈیا رپورٹس میں لاٹھی چارج کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ دہلی پولیس نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔ اس لیے دونوں کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کو ثبوت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے مزید کہا کہ کیا دہلی پولیس اور مرکزی پولیس دستوں کے سرکاری بیانات میں کوئی تضاد ہے؟ ہم ایسی عرضیوں پر غور نہیں کریں گے۔ یہاں ہر طرح کے مقدمات دائر کیے جا رہے ہیں۔ اس معاملے میں کوئی مفادِ عامہ نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے 20 اگست کو کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی مظاہروں سے متعلق معاملات کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے ان مظاہروں سے متعلق تمام پہلوو¿ں کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس آر س±بھاش ریڈی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی ہے۔
اس کمیٹی میں سابق جج جسٹس روی شنکر جھا، سابق جج جسٹس شالندر کور، سابق سی بی آئی ڈائریکٹر رشی کمار شکلا اور سابق ڈی جی پی ڈاکٹر ایل آر بشنوئی شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ