کرنی سینا نے ریزرویشن اور یو جی سی قوانین کے خلاف احتجاج کی اجازت مانگی، ہائی کورٹ کا فوری سماعت سے انکار
نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے ریزرویشن اور یو جی سی کے قوانین کے خلاف جنتر منتر پر 20 ستمبر کو احتجاج کرنے کی اجازت دینے کی درخواست پر فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے درخواست گزار سے
کرنی سینا نے ریزرویشن اور یو جی سی قوانین کے خلاف احتجاج کی اجازت مانگی، ہائی کورٹ کا فوری سماعت سے انکار


نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے ریزرویشن اور یو جی سی کے قوانین کے خلاف جنتر منتر پر 20 ستمبر کو احتجاج کرنے کی اجازت دینے کی درخواست پر فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے درخواست گزار سے کہا کہ وہ عرضی میں موجود خامی دور کر دیں، اس کے بعد عرضی خود بخود فہرست میں شامل ہو جائے گی۔

درخواست گزار کی جانب سے پیش وکیل نے کہا کہ دہلی پولیس نے پہلے 20 ستمبر کو احتجاج کرنے کی اجازت دے دی تھی، لیکن بعد میں انکار کر دیا۔ اس پر عدالت نے کہا کہ 20 ستمبر کو احتجاج ہونا ہے اور آپ نے عرضی دائر کی ہے، اس لیے یہ خود بخود فہرست میں شامل ہو جائے گی۔ اس سے قبل ہائی کورٹ نے دہلی پولیس سے کہا تھا کہ وہ جنتر منتر پر ریزرویشن اور یو جی سی کے قوانین کے خلاف احتجاج کرنے کی اجازت دینے کے معاملے پر 14 ستمبر تک فیصلہ کرے۔ کشتریہ کرنی سینا 20 ستمبر کو جنتر منتر پر احتجاج کرنا چاہتی ہے۔

کرنی سینا نے پہلے 6 ستمبر کو احتجاج کی اجازت مانگی تھی، لیکن پولیس نے برکس سربراہ اجلاس کی تیاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس سے انکار کر دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے 3 ستمبر کو درخواست گزار سے کہا تھا کہ وہ احتجاج کی تاریخ تبدیل کر لے۔ عدالت نے کہا تھا کہ 6 ستمبر کی تاریخ میں خاص کیا ہے؟ اگر پولیس اس تاریخ پر رضامند نہیں ہے تو آپ کوئی دوسری تاریخ مقرر کر لیں۔

یہ عرضی کرنی سینا کے سربراہ راج شیکھاوت نے دائر کی ہے۔ کرنی سینا نے یو جی سی کے قوانین کے خلاف احتجاج کرنے کی اجازت مانگی ہے۔ اس سلسلے میں دہلی پولیس کو 27 اگست کو خط لکھ کر کہا گیا تھا کہ وہ پُرامن احتجاج کریں گے۔ 28 اگست کو دہلی پولیس نے یہ کہتے ہوئے ان کی درخواست مسترد کر دی تھی کہ برکس سربراہ اجلاس کی تیاریاں جاری ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande