جئے رام رمیش نے خارجہ اور تجارتی پالیسی کے معاملہ پر مودی حکومت پر تنقید کی
نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س)۔ کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے امریکی ٹیرف کی دھمکی، امیگریشن قوانین میں سختی اور یو پی آئی پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) نافذ کرنے کے فیصلے پر بدھ کو مرکزی حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے ک
جئے رام رمیش نے خارجہ اور تجارتی پالیسی کے معاملہ پر مودی حکومت پر تنقید کی


نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س)۔ کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے امریکی ٹیرف کی دھمکی، امیگریشن قوانین میں سختی اور یو پی آئی پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) نافذ کرنے کے فیصلے پر بدھ کو مرکزی حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سینیٹ سے منظوری کے بعد اب وہاں کا ایوانِ نمائندگان بھارت پر 100 فیصد تک درآمدی ڈیوٹی عائد کرنے والے بل پر ووٹنگ کرنے جا رہا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ بھارتی انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) پروفیشنلز پر شکنجہ کستے ہوئے ایچ-1 بی ویزا کی لاگت بڑھا رہی ہے اور ملازمت ختم ہونے کی صورت میں فوری ملک بدری کے سخت قوانین نافذ کر رہی ہے۔

جئے رام رمیش نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ امریکی پارلیمنٹ کا ایوانِ نمائندگان ایک ایسے بل پر ووٹنگ کرنے جا رہا ہے، جس میں بھارت پر 100 فیصد درآمدی ڈیوٹی (محصولاتی ٹیکس) عائد کرنے کی تجویز ہے۔ امریکی سینیٹ پہلے ہی اس قانون کو منظوری دے چکی ہے۔ ایک طرف امریکی انتظامیہ بھارتی تارکین وطن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) پروفیشنلز پر شکنجہ کس رہی ہے، ایچ-1 بی ویزا کی لاگت بڑھائی جا رہی ہے اور ملازمت چھوٹنے پر فوری ملک بدری کے سخت قوانین بنائے جا رہے ہیں، تو دوسری جانب مودی حکومت واشنگٹن کے سامنے مکمل طور پر پسپائی کی پوزیشن میں ہے۔

کانگریس جنرل سکریٹری نے یو پی آئی لین دین پر فیس کا نظام نافذ کرنے کے فیصلے کو براہ راست امریکی دباؤ سے جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی تجارتی نمائندے نے رواں سال کے آغاز میں یو پی آئی کے مکمل طور پر مفت ہونے اور اس کی وجہ سے امریکی کارڈ کمپنیوں ویزا اور ماسٹر کارڈ کے بازار سے باہر ہونے پر سوال اٹھائے تھے۔ ان کے مطابق، اسی دباؤ کے نتیجے میں مودی حکومت نے زیرو ایم ڈی آر کی پالیسی ختم کر دی۔

رمیش نے کہا کہ کیا 0.4 فیصد ایم ڈی آر اس لیے مقرر کیا گیا ہے کیونکہ ڈیبٹ کارڈ پر بھی 0.4 فیصد فیس عائد ہوتی ہے؟ کیا یہ فیصلہ امریکی کارڈ کمپنیوں کو بھارتی یو پی آئی نظام سے مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کے لیے لیا گیا ہے؟ انہوں نے حکومت کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا جس میں اسے یو پی آئی کی ’پائیداری‘ کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے یو پی آئی نظام کو چلانے کی سالانہ لاگت تقریباً 20,000 کروڑ روپے ہے، جو مرکزی حکومت کے مالیاتی اعداد و شمار کو درست رکھنے کے لیے بھارتی ریزرو بینک کی جانب سے دیے جانے والے سالانہ منافع کی منتقلی کے 10 فیصد سے بھی کم ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande