جنگی جہاز سے ٹکر کے معاملے میں بھارت نے پاکستانی سفارت کار کو طلب کرکے سخت احتجاج درج کرایا
نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س)۔ بھارت نے اپنی بحریہ کے ایک جہاز سے پاکستانی بحریہ کے جہاز کی ٹکر کے واقعے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے دہلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن کے قائم مقام سربراہ کو طلب کرکے شدید احتجاج درج کرایا ہے۔ بھارت نے پورے واقعے کو ناقا
جنگی جہاز سے ٹکر کے معاملے میں بھارت نے پاکستانی سفارت کار کو طلب کرکے سخت احتجاج درج کرایا


نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س)۔ بھارت نے اپنی بحریہ کے ایک جہاز سے پاکستانی بحریہ کے جہاز کی ٹکر کے واقعے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے دہلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن کے قائم مقام سربراہ کو طلب کرکے شدید احتجاج درج کرایا ہے۔ بھارت نے پورے واقعے کو ناقابل قبول اور غیر پیشہ ورانہ طرز عمل قرار دیا ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق یہ واقعہ بین الاقوامی سمندری حدود میں پیش آیا۔ اگرچہ اس ٹکر سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا، تاہم پاکستانی بحریہ کے جہاز کا یہ طرز عمل فوجی مشقوں، جنگی مشقوں اور فوجیوں کی نقل و حرکت سے متعلق پیشگی اطلاع کے حوالے سے بھارت-پاکستان معاہدے (اپریل 1991) کی دفعہ 10 کی براہ راست خلاف ورزی تھا۔

وزارت نے پاکستانی ہائی کمیشن کے انچارج کو واضح ہدایت دی کہ وہ اپنے متعلقہ حکام کو اس بات سے آگاہ کریں کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی تکرار روکنے کے لیے تمام فوجی یونٹ مکمل احتیاط برتیں اور دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے دو طرفہ معاہدوں کی دفعات پر سختی سے عمل کریں۔ اس کے ساتھ ہی اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے انچارج کو بھی پاکستان کی وزارت خارجہ کے سامنے اس واقعے پر اسی طرح کا سخت احتجاج درج کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 15 ستمبر کی شام بحیرۂ عرب کے شمالی حصے کے بین الاقوامی پانیوں میں معمول کے نگرانی مشن پر تعینات بھارتی بحریہ کے ایک فرنٹ لائن جنگی جہاز کے انتہائی قریب پاکستانی بحریہ کا ایک جہاز تیز رفتاری سے آ گیا تھا۔ پاکستانی جہاز نے اس دوران غیر پیشہ ورانہ اور انتہائی غیر محفوظ انداز میں جنگی مشق کی، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں کے درمیان ٹکر ہو گئی۔ تاہم، اس واقعے میں کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande