
نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س)۔دہلی ہائی کورٹ نے مالویہ نگر آتش زدگی کے معاملے میں ہوٹل کے مالک لوکیش بجاج کی صحت کی بنیاد پر دائر ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اس کی طبی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ہائی کورٹ اس ضمانت کی درخواست پر اگلی سماعت 21 ستمبر کو کرے گی۔
لوکیش بجاج نے اپنی خراب صحت کا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت کی درخواست کی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ لوکیش بجاج سرجری کے لیے رام منوہر لوہیا اسپتال میں داخل ہوا تھا، جہاں سے اسے ڈسچارج کیے جانے کے بعد دوبارہ جیل بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد عدالت نے اس کی صحت سے متعلق رپورٹ طلب کرنے کا حکم دیا۔
دہلی پولیس کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ کا عدالت نے نوٹس لے لیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس بھانو پرتاپ سنگھ نے تین ملزمان کے خلاف دائر چارج شیٹ کا نوٹس لیا۔ عدالت نے تینوں ملزمان کو 17 ستمبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔
3 ستمبر کو ساکیت عدالت نے لوکیش بجاج، ہوٹل کے مینیجر جے مشرا اور باورچی کیسر نیگی کے خلاف دائر چارج شیٹ کا نوٹس لیا تھا۔ لوکیش بجاج اور جے مشرا فی الحال عدالتی حراست میں ہیں، جبکہ کیسر نیگی کو 27 جولائی کو ضمانت مل گئی تھی۔ دہلی پولیس نے اس معاملے میں یکم ستمبر کو چارج شیٹ داخل کی تھی۔
دہلی پولیس نے ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 105، 326(جی)، 324(5)، 125 اور 287 کے تحت الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس نے لوکیش بجاج کو 4 جون اور کیسر نیگی کو 6 جون کو گرفتار کیا تھا، جبکہ جے مشرا نے 8 جون کو عدالت میں خودسپردگی کی تھی۔
پولیس کے مطابق کیسر نیگی الیکٹرک چولہے پر کھانا پکا رہا تھا کہ اسی دوران اس میں دھماکا ہو گیا۔ دھماکے کے بعد نیگی نے بجلی کی سپلائی بند کر دی، جس کے نتیجے میں ہوٹل کے الیکٹرانک دروازے بند ہو گئے اور کئی افراد ہوٹل کے اندر پھنس گئے۔ ہوٹل میں دو کمرے تھے اور باہر نکلنے کے لیے صرف ایک راستہ تھا۔ ہوٹل کی کھڑکیاں مستقل طور پر بند تھیں اور مرکزی دروازہ سینسر سے چلتا تھا۔
3 جون کو مالویہ نگر کے ایک ہوٹل میں صبح تقریباً آٹھ بجے بھیانک آگ لگ گئی تھی۔ اس حادثے میں تہہ خانے میں پھنسے 22 افراد دھویں اور آگ کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی