ایس سی-ایس ٹی ایکٹ معاملے میں یوٹیوبر اجیت بھارتی کی پیشگی ضمانت پر فیصلہ محفوظ
نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کے تحت درج ایف آئی آر کے معاملے میں یوٹیوبر اجیت بھارتی کی پیشگی ضمانت کی عرضی پر فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ جسٹس سوربھ بنرجی نے آج وہ متنازعہ ویڈیو دیکھا، جس میں بھارتی نے مبینہ طور پر
دہلی ہائی کورٹ فائل فوٹو


نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کے تحت درج ایف آئی آر کے معاملے میں یوٹیوبر اجیت بھارتی کی پیشگی ضمانت کی عرضی پر فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ جسٹس سوربھ بنرجی نے آج وہ متنازعہ ویڈیو دیکھا، جس میں بھارتی نے مبینہ طور پر کچھ تبصرے کیے تھے۔

سماعت کے دوران جب عدالت کو بتایا گیا کہ ایف آئی آر 25 اگست کو درج کی گئی تھی، تو عدالت نے دہلی پولیس سے دریافت کیا کہ کوئی نوٹس کیوں نہیں دیا گیا؟ کیا آپ کو پوچھ گچھ کی ضرورت نہیں ہے؟ اس پر دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے بتایا کہ تفتیشی افسر کو بھارتی کا پتہ محض دو دن قبل ہی ملا تھا اور اب وہ ان تک پہنچ سکے ہیں۔

دراصل، چندر شیکھر راون کی آزاد سماج پارٹی کے دہلی ریاستی صدر بالک رام بودھ نے اجیت بھارتی کے خلاف 23 اگست کو نارتھ ایونیو تھانے میں ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ ایف آئی آر ایس سی-ایس ٹی ایکٹ، آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 67 اور تعزیراتِ ہند کی دفعہ 196(1)(سی) کے تحت درج کی گئی تھی۔ ایف آئی آر بالک رام بودھ نے اجیت بھارتی کے سوشل میڈیا ہینڈل پر اپ لوڈ کی گئی ایک ویڈیو کے سلسلے میں درج کرائی تھی۔

بودھ کی شکایت میں کہا گیا ہے کہ اجیت بھارتی نے ذات پات پر مبنی اور توہین آمیز زبان کا استعمال کیا۔ شکایت میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اجیت بھارتی نے ویڈیو میں بی آر امبیڈکر کے بارے میں قابلِ اعتراض تبصرہ کیا۔ اس کے علاوہ بھارتی نے خواتین کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کی اور مبینہ طور پر دھمکیاں دیں۔ تاہم اجیت بھارتی نے عوامی سطح پر اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تبصرے ان کی ویڈیو پر ان کی ماں بہن کے بارے میں کیے گئے توہین آمیز تبصرے کے جواب میں تھے۔

بھارتی کی پیشگی ضمانت کی عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ تبصرے ایک شخص کی جانب سے کی گئی شدید اشتعال انگیزی کے بعد کیے گئے تھے، جس میں یہ تبصرہ کیا گیا تھا کہ بھارتی کی شادی شدہ بہن کو کسی دوسرے شخص (چندر شیکھر راون) سے شادی کر لینی چاہیے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ بھارتی کے تبصرے محض ردِعمل کے طور پر تھے۔ عرضی میں اس الزام کو مسترد کیا گیا ہے کہ بھارتی نے بابا صاحب امبیڈکر کے بارے میں تبصرے کیے تھے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande