کانگریس کا یو پی آئی کو پہلے کی طرح مکمل طور پر مفت رکھنے کا مطالبہ
نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س)۔ کانگریس نے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) کے ذریعے 2,000 روپے سے زیادہ کی کاروباری ادائیگیوں پر فیس عائد کرنے کی راہ ہموار کرنے کے فیصلے پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ حکومت ا
کانگریس کا یو پی آئی کو پہلے کی طرح مکمل طور پر مفت رکھنے کا مطالبہ


نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س)۔

کانگریس نے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) کے ذریعے 2,000 روپے سے زیادہ کی کاروباری ادائیگیوں پر فیس عائد کرنے کی راہ ہموار کرنے کے فیصلے پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

کانگریس نے الزام لگایا کہ حکومت امریکی کمپنیوں کے دباو¿ میں آکر ملک کے عام شہریوں، نوجوانوں اور تاجروں کی جیب پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے۔پارٹی نے اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے اور یو پی آئی کو پہلے کی طرح مکمل طور پر مفت رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کانگریس کی سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی سربراہ سپریا شرینیت نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے نئے فیصلے کے تحت 2,000 روپے سے زیادہ کی ہر کاروباری یو پی آئی ادائیگی پر 0.4 فیصد مرچنٹ ڈسکاو¿نٹ ریٹ (ایم ڈی آر) وصول کیا جائے گا۔

حکومت کی جانب سے یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ یہ فیس صارف نہیں بلکہ تاجر ادا کرے گا۔ تاہم، سپریا شرینیت نے کہا کہ یہ دلیل بے معنی ہے، کیونکہ آخرکار تاجر اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے اس بوجھ کو عام لوگوں پر ہی منتقل کر دیں گے۔

شرینیت نے دعویٰ کیا کہ ملک میں 2,000 روپے سے زیادہ مالیت کے 604.8 کروڑ پی ٹو ایم (شخص سے تاجر) یو پی آئی لین دین ہوتے ہیں، جن کی مجموعی مالیت 66.22 لاکھ کروڑ روپے ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کی مارکیٹ میں فون پے کا حصہ 48.9 فیصد اور گوگل پے کا حصہ 37.7 فیصد ہے۔ان کے مطابق، فون پے میں امریکہ کی کمپنی والمارٹ کی 72 فیصد حصہ داری ہے، جبکہ گوگل پے مکمل طور پر امریکی کمپنی گوگل ایل ایل سی کی ملکیت ہے۔

شرینیت نے الزام لگایا کہ مہنگائی سے پریشان عوام کی جیب پر بوجھ ڈال کر ان غیر ملکی کمپنیوں کی آمدنی میں اضافہ اور فون پے کے آئندہ آئی پی او کے لیے ویلیوایشن بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یو پی آئی کے اخراجات سے متعلق دعویٰ

انہوں نے حکومت کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ یو پی آئی کو معاشی طور پر برقرار رکھنے کے لیے فیس عائد کرنا ضروری ہے۔شرینیت نے کہا کہ پورے یو پی آئی نظام کو آسانی سے چلانے کے لیے سالانہ تقریباً 20,700 کروڑ روپے درکار ہوتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مالی سال 2025-26 میں بھارتی ریزرو بینک نے مرکزی حکومت کو 2.87 لاکھ کروڑ روپے کا اضافی منافع منتقل کیا، جبکہ درج شدہ بینکوں کا منافع 4.11 لاکھ کروڑ روپے اور این پی سی آئی کا ٹیکس سے پہلے اضافی منافع 1,888 کروڑ روپے رہا۔

ان کے مطابق، ریزرو بینک سے حاصل ہونے والی اضافی رقم کے محض 7.2 فیصد حصے سے پورے یو پی آئی نظام کے اخراجات پورے کیے جا سکتے تھے، لیکن حکومت نے عوام سے فیس وصول کرنے کا راستہ اختیار کیا۔

حکومت پر الزامات

شرینیت نے الزام لگایا کہ پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے غلط بیانات دے کر یہ فیصلہ نافذ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 6 اور 10 اگست کو وزیرِ خزانہ نے پارلیمنٹ میں بتایا تھا کہ ایم ڈی آر کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ یا فریم ورک طے نہیں کیا گیا ہے، لیکن 14 ستمبر کو خاموشی سے ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے فیس عائد کرنے کی راہ ہموار کر دی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یو پی آئی کی بنیاد کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے دور میں رکھی گئی تھی اور این پی سی آئی اور ڈی بی ٹی جیسے نظام بھی کانگریس کے دورِ حکومت میں تیار کیے گئے تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande