کانگریس نے مودی حکومت کی خارجہ اور تجارتی پالیسی کی مذمت کی
نئی دہلی، 16 ستمبر(ہ س)۔ کانگریس کے قومی صدر ملیکارجن کھرگے نے امریکی محصولات اور تجارتی پالیسی پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت امریکی دباو کے سامنے جھک رہی ہے، جس سے ملک کے0 14 کروڑ شہریوں، کسانوں اور صنعتوں ک
کھرگے


نئی دہلی، 16 ستمبر(ہ س)۔ کانگریس کے قومی صدر ملیکارجن کھرگے نے امریکی محصولات اور تجارتی پالیسی پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت امریکی دباو کے سامنے جھک رہی ہے، جس سے ملک کے0 14 کروڑ شہریوں، کسانوں اور صنعتوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔کھرگے نے بدھ کے روز ایک ایکس پوسٹ میں کہا کہ امریکہ کی طرف سے ہندوستانی اشیا پر 100 فیصد تک محصولات کی حالیہ وارننگ حکومت کی خارجہ اور تجارتی پالیسیوں کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ پہلے 25 فیصد، پھر 50 فیصد اور اب 100 فیصد محصولات کا خطرہ ہے۔ اس کا ملک کے اہم شعبوں جیسے دواسازی، ٹیکسٹائل، انجینئرنگ کے سامان، کیمیکل، آٹو پارٹس، جواہرات اور زیورات، الیکٹرانکس اور ٹیکنالوجی پر زبردست اثر پڑ سکتا ہے۔کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ جہاں ایک طرف ہندوستانی اشیا پر بھاری درآمدی محصولات کا خطرہ ہے، وہیں دوسری طرف مودی حکومت نے ایک ایسے تجارتی فریم ورک پر اتفاق کیا ہے جس سے امریکی مصنوعات کی ہندوستانی زرعی شعبے تک رسائی آسان ہو جائے گی۔ کھرگے نے اسے ملک کے کسانوں کے مفادات کو گروی رکھنے کا اقدام قرار دیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس تجارتی معاہدے کے تحت بھارت اگلے پانچ سالوں میں 500 ارب ڈالر مالیت کا امریکی سامان خریدنے پر مجبور ہے۔کھرگے نے یو پی آئی پر مرچنٹ ڈسکاونٹ ریٹ (ایم ڈی آر) کے معاملے کو حکومت کی کمزوری کی تازہ ترین مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ محصولات اور تجارت سے لے کر ایچ-1 بی ویزوں اور ڈیجیٹل ادائیگیوں تک واشنگٹن کا دباو¿ بڑھتا جا رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande