دہلی دوا گھوٹالہ: عدالت کا ڈاکٹر وتسلا اگروال کی عبوری ضمانت میں توسیع سے انکار
نئی دہلی، 15 ستمبر (ہ س)۔ راوز ایونیو کورٹ نے دہلی کے دوا گھوٹالے کی ملزمہ اور دہلی کی صحت خدمات کی سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر وتسلا اگروال کی چار ہفتے کی عبوری ضمانت میں توسیع سے انکار کر دیا ہے۔ خصوصی جج ودیا پرکاش نے کہا کہ ملزمہ کو جن ادویات کے ا
ضمانت


نئی دہلی، 15 ستمبر (ہ س)۔ راوز ایونیو کورٹ نے دہلی کے دوا گھوٹالے کی ملزمہ اور دہلی کی صحت خدمات کی سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر وتسلا اگروال کی چار ہفتے کی عبوری ضمانت میں توسیع سے انکار کر دیا ہے۔ خصوصی جج ودیا پرکاش نے کہا کہ ملزمہ کو جن ادویات کے استعمال کا مشورہ دیا گیا ہے، وہ جیل میں بھی فراہم کی جا سکتی ہیں۔

عدالت نے کہا کہ 18 اگست کو دی گئی چار ہفتے کی عبوری ضمانت کی مدت مکمل ہونے کے بعد ملزمہ کو جیل میں خودسپردگی کرنا ہوگی۔ 18 اگست کو عدالت نے ایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کے دو ضامنوں کی شرط پر عبوری ضمانت منظور کی تھی۔

اس سے قبل عدالت نے 17 اگست کو اس معاملے کے دوسرے ملزم ڈاکٹر ونود کمار رنگا کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی تھی۔ دونوں ملزمان کو اینٹی کرپشن برانچ نے گرفتار کیا تھا۔ ان پر ادویات اور طبی آلات کی خریداری میں 700 کروڑ روپے کی بے ضابطگی کا الزام ہے۔

سماعت کے دوران ڈاکٹر وتسلا اگروال کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل رمیش گپتا نے کہا تھا کہ وہ گزشتہ 40 روز سے جیل میں ہیں۔ درخواست گزار کو صحت سے متعلق مسائل درپیش ہیں، جن کا ذکر حراست کے حکم میں بھی کیا گیا ہے۔

رمیش گپتا نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ وتسلا اگروال کو کچھ اعلیٰ عہدے داروں کو بچانے کے لیے قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وتسلا اگروال کے گھر سے کوئی قابلِ اعتراض چیز برآمد نہیں ہوئی۔

اس معاملے میں اینٹی کرپشن برانچ نے محکمہ احتساب کی شکایت پر 2 جون کو ایف آئی آر درج کی تھی۔ ایف آئی آر میں ادویات، جراحی کے سامان اور طبی آلات کی خریداری میں تقریباً 700 کروڑ روپے کی مبینہ خردبرد کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ دہلی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز اور دہلی حکومت کی مرکزی خریداری ایجنسی نے اس مبینہ خردبرد کو انجام دیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande