وزیر اعلیٰ نے سیلاب متاثرہ 8,27,472 خاندانوں کے بینک کھاتوں میں ڈی بی ٹی کے ذریعے 579.23 کروڑ روپے کی امدادی رقم منتقل کی
وزیر اعلیٰ نے سیلاب متاثرہ 8,27,472 خاندانوں کے بینک کھاتوں میں ڈی بی ٹی کے ذریعے 579.23 کروڑ روپے کی امدادی رقم منتقل کی پٹنہ، 15 ستمبر(ہ س)۔ وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے آج لوک سیوک آواس واقع ’سنکلپ سبھا گار‘ میں منعقدہ امدادی رقم کی تقسیم کے پر
وزیر اعلیٰ نے سیلاب متاثرہ 8,27,472 خاندانوں کے بینک کھاتوں میں ڈی بی ٹی کے ذریعے 579.23 کروڑ روپے کی امدادی رقم منتقل کی


وزیر اعلیٰ نے سیلاب متاثرہ 8,27,472 خاندانوں کے بینک کھاتوں میں ڈی بی ٹی کے ذریعے 579.23 کروڑ روپے کی امدادی رقم منتقل کی

پٹنہ، 15 ستمبر(ہ س)۔ وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے آج لوک سیوک آواس واقع ’سنکلپ سبھا گار‘ میں منعقدہ امدادی رقم کی تقسیم کے پروگرام کے دوران سیلاب سے متاثرہ 8 لاکھ 27 ہزار 472 خاندانوں کے بینک کھاتوں میں 7 ہزار روپے فی خاندان کی شرح سے مجموعی طور پر 579.23 کروڑ روپے کی امدادی رقم ڈی بی ٹی کے ذریعے منتقل کرنے کا آغاز کیا۔ پروگرام کے دوران محکمہ آفات مینجمنٹ کے پرنسپل سکریٹری سنتوش کمار مل نے پرنٹیشن کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ علاقوں، راحت و بچاؤ کے کاموں اور متاثرہ افراد کو فراہم کی جانے والی سہولیات وغیرہ کے بارے میں وزیراعلیٰ کو تفصیلی معلومات فراہم کیں۔

پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیلاب کی اس چیلنجنگ صورتحال میں ریاستی حکومت کی اولین ترجیح متاثرہ خاندانوں کو فوری راحت، مدد اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔ حکومت پوری حساسیت کے ساتھ سیلاب متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔ راحت اور بچاؤ کے کاموں میں کسی بھی قسم کی کمی نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے 15 اضلاع، 88 بلاک، 575 گرام پنچایتوں، 2,642 گاؤں اور 21 شہروں کے 136 وارڈوں کے تقریباً 50 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ تقریباً 55 ہزار ہیکٹیئر اراضی سیلاب کی زد میں آئی ہے، جس کے نتیجے میں فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ہر سطح پر راحت اور بچاؤ کے کام کو تیزی سے کیا جارہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیلاب متاثرین کو کھانا فراہم کرنے کے لیے 1,200 سے زائد کمیونٹی کچن چلائے جا رہے ہیں۔ ان کمیونٹی کچن کے ذریعے اب تک تقریباً 1.28 کروڑ تھالیاں پیش کی جاچکی ہیں۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو کھانا، پینے کا پانی، ادویات اور دیگر ضروری سہولیات مسلسل فراہم کی جائیں۔ این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی 21 ٹیمیں مسلسل راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک حالات معمول پر نہیں آ جاتے، راحت اور امداد کی سہولیات مسلسل جاری رہیں گی۔ متاثرہ لوگوں کو کسی بھی قسم کی پریشانی نہیں ہونے دی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج سیلاب سے متاثرہ ہر خاندان کو 7 ہزار روپے کی شرح سے 8 لاکھ 27 ہزار 472 خاندانوں کے بینک کھاتوں میں ڈی بی ٹی کے ذریعے مجموعی طور پر 579.23 کروڑ روپے کی رقم منتقل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستحقین کی شناخت اور تصدیق کے عمل میں مکمل شفافیت برتی جائے۔ اگر کوئی مستحق متاثرہ خاندان امداد سے چھوٹ گیا ہے تو اسے ایک ہفتے کے اندر راحت کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ کوئی بھی مستحق متاثرہ خاندان سرکاری امداد سے محروم نہ رہے۔انہوں نے کہا کہ راحت کے کاموں کے ساتھ ساتھ بازآبادکاری اور تعمیر نو کا کام بھی تیز رفتاری سے کیا جائے۔ ریاست میں ' بلڈ بیک بیٹر دین بیفور‘ یعنی ’پہلے سے بہتر تعمیر نو‘ کی تھیم پر کام کیا جائے۔ تمام بازآبادکاری کے کام ایک ماہ کے اندر مکمل کیے جائیں۔ اس میں زرعی ان پٹ سبسڈی (زرعی سرمایہ کاری امداد)، سڑکوں کی مرمت سمیت متاثرہ خاندانوں اور کسانوں کو ہر طرح کی ضروری مدد فراہم کرنا شامل ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا پوری سنجیدگی اور حساسیت کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور متاثرہ خاندانوں، کسانوں اور دیگر متعلقہ افراد کو ضابطے کے مطابق جلد از جلد امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان کے کل مجوزہ دورے کے پیش نظر سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا مناسب اور حقائق پر مبنی جائزہ لے کر رپورٹ تیار رکھی جائے۔ متاثرہ علاقوں میں ہونے والے نقصانات کی حقیقی صورتحال کی دستاویز بندی کرتے ہوئے ضروری امداد اور بازآبادکاری کے کاموں کو ترجیحی بنیاد پر آگے بڑھائیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام محکموں نے باہمی تعاون سے سیلاب متاثرین کو راحت پہنچانے میں بہت اچھا کام کیا ہے۔ ریاستی حکومت کا مقصد صرف فوری راحت فراہم کرنا نہیں ہے، بلکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو جلد از جلد معمول کی حالت میں لانا اور پہلے سے بہتر انداز میں تعمیر نو کو یقینی بنانا بھی ہے۔ حکومت، انتظامیہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ،ذرائع اور تمام متعلقہ محکمے باہمی تال میل کے ساتھ اس سمت میں کام کر رہے ہیں۔

پروگرام میں نائب وزیراعلیٰ وجے کمار چودھری، نائب وزیراعلیٰ بجیندر پرساد یادو، آفات مینجمنٹ کے وزیرتنیش سادا، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سکریٹری دیپک کمار، چیف سکریٹری پرتیہ امرت، ڈی جی پی ونئے کمار، محکمہ آفات مینجمنٹ کے پرنسپل سکریٹری سنتوش کمار مل، محکمہ زراعت کے پرنسپل سکریٹری نرمیندیشور لال، وزیراعلیٰ کے سکریٹری لوکیش کمار سنگھ، وزیراعلیٰ کے سکریٹری سنجے کمار سنگھ، توانائی کے سکریٹری اجے کمار یادو، محکمہ صحت کے سکریٹری کمار روی، صحت عامہ انجینئرنگ محکمہ کے سکریٹری بی کارتکیے دھن ، محکمہ آبی وسائل کے سکریٹری ڈاکٹر چندرشیکھر سنگھ سمیت دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande