
جموں, 15 ستمبر (ہ س)،
اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) جموں و کشمیر نے جموں کے سابق اسسٹنٹ کمشنر ریونیو (اے سی آر) نثار احمد شاہد سمیت پانچ افراد کے خلاف ’غیر ممکن کھڈ‘ کے طور پر درج اراضی کی مبینہ غیر قانونی منتقلی اور اجازت نامے جاری کرنے کے معاملے میں مقدمہ درج کیا ہے۔اے سی بی کے ترجمان کے مطابق پولیس اسٹیشن اے سی بی سینٹرل جموں میں ایف آئی آر نمبر 12/2026 درج کی گئی ہے۔ مقدمہ چار نجی افراد کے خلاف بھی درج کیا گیا ہے، جو مبینہ طور پر مذکورہ اراضی کی منتقلی سے مستفید ہوئے۔
اے سی بی کے مطابق یہ کارروائی پریلیمنری انکوائری نمبر پی ای-جے ایس کے-17/2019 کے نتائج کے بعد کی گئی، جس میں ’غیر ممکن کھڈ‘ اراضی سے متعلق اجازت نامے جاری کرنے کے عمل میں بادی النظر میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا۔
تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق نثار احمد شاہد نے 23 مئی 2018 سے 11 جولائی 2018 کے دوران اے سی آر جموں کی حیثیت سے مبینہ طور پر اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے چوواڑی اور ڈیلی علاقوں میں ’غیر ممکن کھڈ‘ اراضی کی منتقلی کے لیے نو اجازت نامے جاری کیے۔
اے سی بی کا کہنا ہے کہ یہ اجازت نامے متعلقہ ریونیو قوانین، حکومتی ہدایات اور اعلیٰ عدالت کی جانب سے اس نوعیت کی اراضی سے متعلق جاری احکامات کے برخلاف جاری کیے گئے۔تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ مذکورہ اجازت نامے ڈپٹی کمشنر جموں کی منظوری سے جاری کیے گئے ظاہر کیے گئے تھے، تاہم ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے تصدیق کے دوران ایسی کوئی منظوری، نوٹ شیٹ یا باضابطہ اختیار نامہ نہیں ملا جس سے اس دعوے کی تصدیق ہو سکے۔
اے سی بی نے ملزمان کے خلاف جے اینڈ کے پریونشن آف کرپشن ایکٹ، 2006 کی متعلقہ دفعات کے علاوہ آر پی سی کی دفعات 120-بی، 467، 468 اور 471 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔اے سی بی نے معاملے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ اجازت ناموں کے اجرا کے مکمل حالات، ملزمان کے کردار اور دیگر متعلقہ حقائق کا تعین کیا جا سکے۔ ایجنسی کے مطابق الزامات تحقیقات کے تابع ہیں اور حتمی فیصلہ قانونی عمل کے تحت مجاز عدالت کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر