
اسلام آباد، 30 اگست (ہ س)۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک حملے کے دوران فوج کے 13 اہلکار ہلاک ہوگئے۔ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سرکاری چینل ’ہکل‘ نے ایک منٹ 38 سیکنڈ کی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں پاکستانی فوج کی بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ بی ایل اے نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
’دی بلوچستان پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق، ہکل میڈیا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی کے جنگجوؤں نے مستونگ کے کھڈکوچہ علاقے میں پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا۔ حملے میں آئی ای ڈی دھماکے کے ذریعے ایک بکتر بند گاڑی تباہ کردی گئی، جبکہ دوسری بکتر بند گاڑی اور اس کے ساتھ چلنے والی دیگر گاڑیوں پر بھی گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔
بی ایل اے کے مطابق اس حملے میں 13 فوجی ہلاک اور 10 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ تنظیم کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی میں بی ایل اے کے اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشن اسکواڈ (ایس ٹی او ایس) نے بھی حصہ لیا۔ اس یونٹ کو ’فتح اسکواڈ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔جاری کی گئی ویڈیو میں مبینہ طور پر بی ایل اے کے جنگجوؤں کو قافلے کے پہنچنے سے پہلے ایک پل کے نیچے دھماکہ خیز مواد نصب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ بکتر بند گاڑیوں کا قافلہ وہاں پہنچنے کے بعد ایک گاڑی زوردار دھماکے کی زد میں آ جاتی ہے۔ ویڈیو میں حملے کے بعد ڈرون سے بنائی گئی فوٹیج بھی شامل ہے۔
بلوچستان لبریشن آرمی پاکستان کا ایک مسلح علیحدگی پسند گروپ ہے۔ اس نے 2000 میں بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کے مقصد کے ساتھ اپنی سرگرمیاں شروع کیں۔ تنظیم کی جانب سے پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں، سرکاری تنصیبات اور خاص طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق منصوبوں اور چینی تعاون سے چلنے والے منصوبوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔بی ایل اے کی مختلف کارروائیوں میں مَجید بریگیڈ اور دیگر مسلح دستے شامل رہے ہیں۔ تنظیم کو خاص طور پر گوریلا طرز کے حملوں کے لیے جانا جاتا ہے۔رواں سال 11 مارچ کو بولان ضلع میں جعفر ایکسپریس ٹرین کو ہائی جیک کیے جانے کے واقعے کی ذمہ داری بھی بی ایل اے نے قبول کی تھی۔ اس واقعے میں 180 سے زائد افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ حملے میں بی ایل اے کی مَجید بریگیڈ کے جنگجو شامل تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan