
کاٹھمنڈو، 30 اگست (ہ س)۔ نیپال کی بھوٹے کوشی اور تریشولی ندیوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد اب تک 724 افراد کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، لیکن ان میں سے صرف 22 لاشوں کی شناخت ہو سکی ہے۔ لاشوں کی شناخت میں مشکلات کے باعث حکومت کو ان کے انتظام میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔
نیپال پولیس کے مطابق اسپتالوں میں لاشیں رکھنے کی مناسب جگہ نہ ہونے کی وجہ سے حکومت نے انہیں ایئر ٹائٹ بیگز میں محفوظ کرکے زمین میں دفن کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے دیو گھاٹ کے قریب جنگلاتی علاقے میں جگہ مختص کی گئی ہے۔
لاشوں کی شناخت میں مدد کے لیے پولیس نے ایک خصوصی پورٹل بھی بنایا ہے، جس پر برآمد ہونے والی لاشوں کی تصاویر جاری کی گئی ہیں۔ سیلاب کے باعث زیادہ تر لاشیں بری طرح متاثر ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی شناخت مشکل ہو رہی ہے۔ نیپال پولیس کے ترجمان اوینارائن کافلے نے بتایا کہ شناخت ہونے والی 22 لاشیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کی جا چکی ہیں۔ بہت کم لاشوں کی شناخت ہو پانے کے بعد اب حکومت نے ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس مقصد کے لیے تمام لاشوں کے ڈی این اے نمونے لیے جا رہے ہیں اور اس کے بعد انہیں محفوظ طریقے سے دفن کیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق ہر نامعلوم لاش کو الگ شناختی نمبر یا کوڈ دیا گیا ہے۔پولیس نے بتایا کہ لاشوں کو مقررہ مقام پر احترام کے ساتھ دفن کرتے وقت شناختی نمبر زمین کے اوپر اور نیچے بھی درج کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ دفن کی گئی ہر لاش کے مقام کی جی پی ایس لوکیشن، تصاویر، نقشہ اور دیگر تفصیلات بھی محفوظ کی جا رہی ہیں۔اگر مستقبل میں کسی لاش کی شناخت تصویر، ڈی این اے یا کسی دوسرے ذریعے سے ہو جاتی ہے تو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اسے قبر سے نکال کر اہل خانہ کے حوالے کیا جائے گا۔
ترجمان کافلے نے کہا کہ بعض لوگوں کو لاشیں دفن کرنے کا طریقہ عجیب لگ سکتا ہے، لیکن یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک محفوظ طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ریکارڈ محفوظ رکھے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ڈی این اے میچ ہونے پر اہل خانہ کو لاش واپس کی جا سکے۔نول پراسی مشرق میں بھی جن لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے، انہیں جنگلاتی علاقے میں دفن کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ یوراج کھڑکا کے مطابق ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے جمع کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔حکام نے لاشوں کے انتظام کے لیے دو مقامات کی نشاندہی کی ہے۔ فی الحال نول پراسی میں ملنے والی لاشوں کو نول پراسی مشرق، نول پراسی مغرب کے علاوہ پوکھرا، روپندیہی اور کپل وستو اضلاع کے اسپتالوں میں رکھا گیا ہے۔دونوں اضلاع کے پولیس حکام کے مطابق ہفتے کی شام تک مجموعی طور پر 223 لاشیں برآمد ہو چکی تھیں۔
نول پراسی مغرب کے پولیس سپرنٹنڈنٹ رام بہادر کے سی کے مطابق ضلع سے 54 مکمل لاشیں اور جسم کے 25 اعضا برآمد ہوئے ہیں۔ دوسری جانب نول پراسی مشرق میں ہفتے کی شام تک 169 لاشیں برآمد کی گئی تھیں، جن میں سے چار کی شناخت ہو چکی ہے۔پولیس سپرنٹنڈنٹ یوراج کھڑکا کے مطابق ان میں سے تین لاشیں اہل خانہ کے حوالے کی جا چکی ہیں، جبکہ ایک لاش حوالے کرنے کی کارروائی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 41 لاشیں پوکھرا بھیجی گئی ہیں، جبکہ باقی لاشیں ضلع کے دو اسپتالوں میں رکھی گئی ہیں۔
دریں اثنا، وزیر خارجہ ششر کھنال نے بتایا کہ حکومت نے بین الاقوامی برادری سے لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے موبائل فریزر، ریفریجریٹڈ ٹرک اور فوری فرانزک و ڈی این اے ٹیسٹ کے آلات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔انہوں نے کہا کہ لاشیں جلد خراب ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے پڑوسی ممالک اور سفارتی مشنز کے ذریعے بین الاقوامی برادری سے ریفریجریٹڈ ٹرکوں کے انتظام کے لیے بات چیت کی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan