
ملی، تنظیمی، سماجی اور فلاحی خدمات کو خراجِ عقیدت، مرحومین کے اہلِ خانہ اور کانفرنس کے عہدیداران کی شرکت
نئی دہلی، 30 اگست(ہ س )۔
آل انڈیا مومن کانفرنس کی جانب سے غالب اکیڈمی، حضرت نظام الدین میں دہلی اسٹیٹ کے سابق صدر فہم الدین انصاری اور سابق جنرل سکریٹری ڈاکٹر مشتاق انصاری کے انتقال پر تعزیتی نشست منعقد ہوئی۔ نشست میں مومن کانفرنس کے عہدیداران و کارکنان، سماجی شخصیات، مرحومین کے اہلِ خانہ اور ان سے دیرینہ تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور مرحومین کی ملی، تنظیمی، سماجی و فلاحی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
نشست کی صدارت آل انڈیا مومن کانفرنس کے صدر فیروز احمد انصاری نے کی، جبکہ ورکنگ صدر حاجی عمران انصاری، سکریٹری جنرل عبدالرشید انصاری، نائب صدر سبحان انصاری اور دیگر عہدیداران نے مرحومین کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے ان کے انتقال کو کانفرنس کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔
سبحان انصاری نے فہم الدین انصاری سے اپنے دیرینہ تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ محبت، خلوص اور ملنساری کی مثال تھے اور لوگوں کو جوڑنے کا کام کرتے تھے۔ محمد الیاس سیفی نے ڈاکٹر مشتاق انصاری کو مخلص، محبت کرنے والا اور بے لوث انسان قرار دیتے ہوئے ان کی سماجی خدمات کو یاد کیا۔
ڈاکٹر امان اللہ نے فہم الدین انصاری سے اپنے ذاتی و خاندانی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ان کے شوقِ مطالعہ اور علم و کتاب سے گہری وابستگی پر روشنی ڈالی۔ ریاض الدین انصاری نے ڈاکٹر مشتاق انصاری سے دیرینہ تعلق کا ذکر کرتے ہوئے شعر پیش کیا:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
اس موقع پر آفتاب عالم انصاری، جمیل انصاری اور محمد ظفر انصاری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مرحومین کی خدمات کو یاد کیا۔
مرحوم فہم الدین انصاری کے صاحبزادے وسیم انصاری نے بتایا کہ ان کے والد کا مومن کانفرنس سے مضبوط تعلق تھا اور وہ تنظیمی سرگرمیوں کے ساتھ سماجی خدمت میں بھی پیش پیش رہتے تھے۔ ڈاکٹر مشتاق انصاری کے صاحبزادے بلال انصاری نے کہا کہ ان کے والد ہمیشہ لوگوں کے بارے میں اچھا سوچنے اور بے غرض تعلقات قائم رکھنے کی تلقین کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے نام سے ڈاکٹر مشتاق انصاری میموریل ٹرسٹ قائم کیا گیا ہے، جس کے ذریعے میڈیکل کیمپ اور دیگر فلاحی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔ ان کی صاحبزادی عظمیٰ نے بھی جذباتی انداز میں اپنے خیالات اور اشعار پیش کیے۔
مومن کانفرنس کی سکریٹری صغریٰ انصاری نے فہم الدین انصاری کی تنظیمی خدمات کو یاد کیا۔ عبدالرشید انصاری نے دونوں مرحومین کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات اور مومن کانفرنس کے لیے ان کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مشتاق انصاری خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار تھے اور میڈیکل کیمپ، راشن کی تقسیم اور دیگر سماجی و فلاحی پروگراموں میں فعال کردار ادا کرتے تھے۔
حاجی عمران انصاری نے کہا کہ فہم الدین انصاری دہلی اسٹیٹ کے صدر اور خازن بھی رہے اور انصاری برادری کی ڈائریکٹری کی تیاری میں بھی کوشش کی۔ ڈاکٹر مشتاق انصاری مسلسل فلاحی سرگرمیوں سے وابستہ رہے اور مختلف مقامات پر میڈیکل کیمپ منعقد کراتے تھے۔
اختتام پر فیروز احمد انصاری نے کہا کہ فہم الدین انصاری نے مومن کانفرنس کے مشکل دور میں دونوں گروپوں کو قریب لانے اور تنظیم کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مومن ٹائمز کے اجرائ میں بھی ان کا تعاون قابلِ ذکر تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مشتاق انصاری میں خدمتِ خلق کا غیر معمولی جذبہ تھا اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
انہوں نے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ مرحومین کے جذب? خدمت کو آگے بڑھاتے ہوئے مومن کانفرنس کو مزید مضبوط کریں اور سماجی و فلاحی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کریں۔ آخر میں مرحومین کے لیے مغفرت، بلندیِ درجات اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais