
کڑکڑڈوما کورٹ مسجد میں درسِ قرآن، سور ہ بقرہ کی آیات 28 تا 37 کی تشریح
نئی دہلی،30اگست (ہ س )۔
جماعت اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے تحت کڑکڑڈوما کورٹ مسجد میں ظہر کے بعد درسِ قرآن کا انعقاد ہوا، جس میں امیرِ مقامی فلاح الدین فلاحی نے سورہ بقرہ کی آیات 28 سے 37 تک کا ترجمہ اور تفسیر بیان کی۔
فلاح الدین فلاحی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عدم سے وجود بخشا، اسے دنیا کی نعمتیں عطا کیں اور زمین میں اپنا خلیفہ مقرر فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ ”میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں“ تو فرشتوں نے زمین میں فساد اور خونریزی کا خدشہ ظاہر کیا، جس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔“
انہوں نے حضرت آدم کو تمام چیزوں کا علم عطا کیے جانے، فرشتوں کے سجدہ کرنے اور ابلیس کے تکبر کے باعث انکار کرنے کے واقعے کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ حضرت آدم? اور ان کی زوجہ کو جنت میں رہنے کی اجازت دی گئی، مگر ایک درخت کے قریب جانے سے منع کیا گیا۔ شیطان کے بہکانے سے لغزش ہوئی اور انہیں زمین پر آنا پڑا۔
فلاح الدین فلاحی نے واضح کیا کہ حضرت آدم کا زمین پر آنا محض درخت کے واقعے کا نتیجہ نہیں تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی زمین میں انسان کو خلیفہ بنانے کا اعلان فرما چکے تھے۔ درخت کا واقعہ اس الٰہی منصوبے کا ایک ذریعہ بنا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا انسان کے لیے امتحان اور خلافت کی جگہ ہے، جہاں اسے اللہ کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنے، اصلاح اور عدل قائم کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ حضرت آدم کی توبہ کے واقعے سے رجوع الی اللہ اور اللہ کی رحمت کا سبق بھی ملتا ہے۔اسوموقع پر رکن جماعت محمد اسلم صاحب مسجد کے امام حفظ الرحمن صاحب اور تبلیغی جماعت کے امیر بھی موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais