ایشین گیمز سے قبل میرابائی چانو کی توجہ فٹنس پر، ہر ہفتہ امریکی ماہر سے صلاح لیتی ہیں
نئی دہلی، 26 اگست (ہ س)۔ ٹوکیو اولمپک میں چاندی کا تمغہ جیتنے والی میرا بائی چانو ایشیائی کھیلوں میں اپنا پہلا تمغہ جیتنے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ ستمبر میں جاپان کے آئچی -ناگویا میں ہونے والے ایشیائی کھیلوں سے قبل چوٹ سے
Sports-Weightlifting-Mirabai-C


نئی دہلی، 26 اگست (ہ س)۔ ٹوکیو اولمپک میں چاندی کا تمغہ جیتنے والی میرا بائی چانو ایشیائی کھیلوں میں اپنا پہلا تمغہ جیتنے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ ستمبر میں جاپان کے آئچی -ناگویا میں ہونے والے ایشیائی کھیلوں سے قبل چوٹ سے بچنا ان کی ترجیح ہے۔ اسکے لئے وہ اسٹرینتھ اور کنڈیشننگ ماہر ڈاکٹر ایرون ہورشگ سے ہر ہفتے ویڈیو کال کے ذریعہ تربیت اور تندرستی پر تبادلہ خیال کرتی ہیں۔

میرابائی نے سائی میڈیا کو بتایا، ”ہم ہر جمعرات کو ویڈیو کال کے ذریعے تربیت، صحت یابی اور مستقبل کی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ ہر چیز کا تفصیل سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ہورشگ خود ایک ویٹ لفٹر ہیں، اس لیے وہ جسم کے ہر عضلات کو سمجھتے ہیں۔ اس مسلسل جائزے نے مجھے فٹ رہنے میں مدد کی ہے۔“

میرابائی اور ہورشگ نومبر 2020 سے ایک ساتھ ہیں۔ میرابائی مودی نگر میں اپنے طویل عرصے سے چلے آ رہے کوچ وجے شرما کے ساتھ ٹریننگ کر رہی ہیں۔ گلاسگو دولت مشترکہ میں اپنا تیسرا گولڈ میڈل جیتنے کے بعد بھی انہوں نے اپنی ٹریننگ سے کوئی وقفہ نہیں لیا ہے۔

میرابائی نے کہا،”میں براہ راست مودی نگر واپس آئی اور ٹریننگ شروع کی۔ میں گھر، منی پوربھی نہیں گئی۔ میں نے خود کو ایک چیلنج دیا ہے کہ جب تک میں ایشیائی کھیلوں میں تمغہ نہیں جیت لیتی، گھر نہیں جاو¿ں گی۔“

ایشین گیمز کا تمغہ میرا بائی کے شاندار کیریئر کا اب بھی نامکمل باب ہے۔ انہوں نے اولمپکس، ورلڈ چیمپئن شپ اور کامن ویلتھ گیمز میں تمغے جیتے ہیں۔ تاہم، وہ چوٹ کی وجہ سے 2018 کے جکارتہ ایشین گیمز سے محروم رہیں اور کولہے اور ران کی چوٹوں کی وجہ سے 2022 کے ہانگزو ایشین گیمز میں چوتھے نمبر پر رہیں۔

گلاسگو دولت مشترکہ کھیلوں میں میرابائی نے خواتین کے 48 کلوگرام زمرے میں کل 190 کلوگرام وزن اٹھا کر سونے تمغہ جیتا۔ انہوں نے اسنیچ میں 85 کلو اور کلین اینڈ جرک میں 105 کلو وزن اٹھا کر تینوں مقابلوں میں دولت مشترکہ کھیلوں کا ریکارڈ قائم کیا۔

تاہم، میرابائی گلاسگو میں مقابلے کی سطح کے بارے میں زیادہ پرجوش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا،”سچ میں، دولت مشترکہ کھیلوں کا مقابلہ میرے لیے زیادہ مشکل نہیں تھا۔ اصل امتحان آگے ہے۔“

میرابائی کے مطابق، ایشیائی کھیلوں میں سب سے مشکل چیلنج چین، شمالی کوریا، جاپان اور تھائی لینڈ کے ویٹ لفٹرز سے آنے کی توقع ہے۔ یہاں تک کہ پیرس اولمپکس میں، تھائی لینڈ کی سرودچنا کھمباو¿ نے انہیں صرف ایک کلو گرام کے فرق سے پیچھے چھوڑتے ہوئے کانسے کا تمغہ جیتا تھا۔

میرابائی کا ذاتی طور پر بہترین 205 کلو گرام ہے، جو انہوں 2021 ایشین چیمپئن شپ اور فروری 2026 میں قومی چیمپئن شپ میں حاصل کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دیکھنا چاہتی ہیں کہ وہ جاپان میں کہاں تک جا سکتی ہیں۔

میرابائی ایشین گیمز میں پانچ رکنی ہندوستانی ویٹ لفٹنگ دستے کی قیادت کریں گی۔ ویٹ لفٹنگ کے مقابلے 22 سے 28 ستمبر تک ناگویا، آئچی کے ٹوکائی سٹیزنز جمنازیم میں منعقد ہوں گے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande