
نئی دہلی، 26 اگست (ہ س)۔
ہریانہ کے جھجر ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں ساسرولی کی 20 سالہ پسٹل نشانہ باز سوچی اندر سنگھ فوگاٹ کی کہانی جدوجہد، خود اعتمادی اور مسلسل بہتری کی مثال ہے۔ 13 سال کی عمر میں بھیوانی کی گرو دروناچاریہ شوٹنگ اکیڈمی میں پسٹل تھامنے والی سوچی آج جونیئر عالمی ریکارڈ ہولڈر اور کئی مرتبہ آئی ایس ایس ایف ورلڈ کپ میں طلائی تمغہ جیتنے والی کھلاڑی ہیں۔ اب ان کی نظریں آئیچی-ناگویا ایشیائی کھیلوں میں 10 میٹر ایئر پسٹل مقابلے پر ہیں۔
اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے سوچی نے ایک سرکاری بیان میں کہا، ”جب میں نے نشانہ بازی شروع کی تھی تو کوئی مجھے نہیں جانتا تھا۔ میں صرف 13 سال کی ایک عام لڑکی تھی، جس کے پاس ہندوستانی ٹیم کی جرسی بھی نہیں تھی۔ آج وہ جرسی پہننا میرے لیے فخر کی بات ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ میں نے کتنا طویل سفر طے کیا ہے۔“
سوچی کے لیے نشانہ بازی کسی طے شدہ منصوبے کا حصہ نہیں تھی۔ انہوں نے اتفاقاً اس کھیل کو اپنایا اور پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ان کا ماننا ہے کہ نشانہ بازی نے انہیں اپنی شناخت خود بنانے کا موقع دیا۔ انہوں نے کہا، ”لوگ نشانہ بازی کو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ اس میں مشکل کیا ہے، بس کھڑے ہو کر نشانہ لگانا ہے۔ لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ کھلاڑی کے اندر کیا چل رہا ہوتا ہے۔ ہر شاٹ کے دوران اپنے خیالات، سانس اور جذبات پر قابو رکھنا اصل چیلنج ہے۔“
سوچی شکست کو بھی سیکھنے کا موقع سمجھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی مقابلے سے صرف تمغہ ہی حاصل نہیں ہوتا۔ اگر وہ جیت نہیں پاتیں تو اپنی غلطی تلاش کرتی ہیں، اسے سمجھتی ہیں اور اگلی بار بہتر کارکردگی کے لیے واپس آتی ہیں۔
نیشنل رائفل ایسوسی ایشن آف انڈیا (این آر اے آئی) کے تعاون کو بھی سوچی اپنی کامیابی میں اہم قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق کوچز اور تربیتی کیمپوں نے ان کی مشق، تیاری اور کھیل کو سمجھنے کے طریقے میں کافی تبدیلی کی ہے۔
سوچی نے 2025 کے سیزن کا اختتام دوحہ میں آئی ایس ایس ایف ورلڈ کپ فائنل میں جونیئر عالمی ریکارڈ کے ساتھ کیا تھا۔ اس کے بعد 2026 میں انہوں نے نئی دہلی میں ایشیائی رائفل-پسٹل چیمپئن شپ میں سمراٹ رانا کے ساتھ مکسڈ ٹیم میں چاندی کا تمغہ جیتا۔
اس کے بعد میونخ میں آئی ایس ایس ایف ورلڈ کپ میں خواتین کے 10 میٹر ایئر پسٹل مقابلے میں ایشا سنگھ کے ساتھ تاریخی طلائی اور چاندی کا نتیجہ حاصل کیا۔ اس کارکردگی کے ساتھ انہوں نے روم میں ہونے والے رواں سال کے ورلڈ کپ فائنل کے لیے براہِ راست کوالیفائی کر لیا۔
ایشیائی کھیلوں کے حوالے سے سوچی نتائج کے دباو¿ سے دور رہنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ”ایشیائی کھیلوں میں میں یہ نہیں سوچنا چاہتی کہ نتیجہ کیا ہوگا۔ میں ہر شاٹ کے لیے لڑنا چاہتی ہوں، اپنا 100 فیصد دینا چاہتی ہوں اور شوٹنگ رینج سے یہ محسوس کرتے ہوئے نکلنا چاہتی ہوں کہ میں نے تمغے کے لیے اپنا سب کچھ دے دیا۔“
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ