نیپال میں سیلاب متاثرین کے لیے بھارت، چین اور عالمی بینک کی مدد کی پیشکش، مودی نے بالیندر شاہ سے بات کی
کھٹمنڈو، 26 اگست (ہ س)۔ آفت زدہ نیپال میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے بچاؤ، راحت اور تعمیر نو کے لیے بھارت، چین اور عالمی بینک نے فوری تعاون کی پیشکش کی ہے۔ نیپال کی بھوٹے کوشی ندی میں بدھ کی صبح اچانک آنے والے شدید سیلاب کی زد میں آنے والے 22 افراد
نیپال میں سیلاب متاثرین کے لیے بھارت، چین اور عالمی بینک کی مدد کی پیشکش، مودی نے بالیندر شاہ سے بات کی


کھٹمنڈو، 26 اگست (ہ س)۔ آفت زدہ نیپال میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے بچاؤ، راحت اور تعمیر نو کے لیے بھارت، چین اور عالمی بینک نے فوری تعاون کی پیشکش کی ہے۔

نیپال کی بھوٹے کوشی ندی میں بدھ کی صبح اچانک آنے والے شدید سیلاب کی زد میں آنے والے 22 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ متاثرین کی ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حادثے کے بعد سے 105 بھارتیوں سمیت 400 سے زائد سیاح لاپتہ ہیں۔

سیلاب کی خبر سامنے آنے کے فوراً بعد صبح 10:35 بجے نیپال کے وزیر خزانہ ڈاکٹر سورنیم واگلے سے نیپال کے امور دیکھنے والے عالمی بینک کے قومی ڈائریکٹر ڈیوڈ سسلیئن نے فون پر رابطہ کیا۔ وزیر خزانہ کے سیکریٹریٹ کے مطابق، سسلیئن نے مختلف ذرائع سے ہنگامی امداد کے طور پر 2,500 کروڑ نیپالی روپے (25 ارب روپے) تک کی امداد فراہم کیے جانے کے امکان سے آگاہ کیا۔

وہیں، جنوبی ہمسایہ ملک بھارت نے سیلاب متاثرین کے لیے فوری طور پر درکار امدادی سامان کی فہرست نیپال حکومت سے طلب کی ہے، تاکہ ضروری اشیا جلد فراہم کی جا سکیں۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ سے فون پر بات چیت کی اور نیپال میں سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ مودی نے کہا کہ بحران کی اس گھڑی میں بھارت کے عوام نیپال کے عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں اور بھارت نیپال کو ہر ممکن انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق، بھارتی ٹیمیں بچاؤ اور راحتی کارروائیوں کے لیے نیپال کے متعلقہ فریقوں کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کر رہی ہیں۔

وہیں، شمالی ہمسایہ ملک چین نے بھی فوری نقد امداد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ چینی سفیر ژانگ ماؤمنگ نے وزیر خزانہ کے ذریعے نیپال حکومت سے امدادی رقم بھیجنے کا عمل شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔

ہمسایہ ممالک اور امدادی اداروں کی جانب سے تعاون کی فراخدلانہ یقین دہانی پر نیپال حکومت کی جانب سے وزیر خزانہ ڈاکٹر سورنیم واگلے نے اظہارِ تشکر کیا ہے۔ وزیر خزانہ کے سیکریٹریٹ کے مطابق، حکومت بین الحکومتی رابطہ کاری کے ذریعے امداد فراہم کرنے کے عمل اور اس کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کر رہی ہے۔

آج ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں راسووا، نواکوٹ اور دھادنگ کے متاثرہ مقامی اداروں کو ’آفت زدہ علاقے‘ قرار دیے جانے کے بعد ملکی اور بین الاقوامی سطح پر راحت اور تعمیر نو کے لیے تعاون حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande