امریکی صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نیانقشہ جاری کرکے اسے ’’نئی امریکی سرزمین‘‘ قرار دے دیا
واشنگٹن، 23 اگست(ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک بار پھر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر اس اہم بحری گزرگاہ کا ایک نقشہ جاری کیا ہے، جس پر ’’نئی امریکی سرزمین‘‘ درج ہے۔ ٹرمپ کی جانب
امریکی صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نیانقشہ جاری کرکے اسے ’’نئی امریکی سرزمین‘‘ قرار دے دیا


واشنگٹن، 23 اگست(ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک بار پھر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر اس اہم بحری گزرگاہ کا ایک نقشہ جاری کیا ہے، جس پر ’’نئی امریکی سرزمین‘‘ درج ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے جاری کی گئی تصویر میں آبنائے ہرمز کا نقشہ دکھایا گیا ہے اور اس پر انگریزی میں’نیو امریکن لینڈ‘ تحریر ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر گزشتہ چند روز سے آبنائے ہرمز پر امریکی مفادات اور ممکنہ کنٹرول کے حوالے سے مسلسل سخت بیانات دے رہے ہیں۔ٹرمپ نے جمعہ کی شام بھی کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو ’’امریکی سرزمین‘‘ سمجھتے ہیں۔ ان کے تازہ اقدام کو اسی موقف کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ نے ایران کے خلاف مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جن کے اثرات ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں، خصوصاً چین، تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کا مقصد ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانا ہے۔ امریکی حکام ان پابندیوں کو اب تک کی سخت ترین پابندیوں میں شمار کر رہے ہیں۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پیر کو ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی تفصیلات پیش کریں گے۔ بیسنٹ نے ان اقدامات کو ’’تاریخ کی سخت ترین پابندیاں‘‘ قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ واشنگٹن تہران پر اقتصادی دباؤ میں مزید اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ان ممالک کو بھی خبردار کیا ہے جو ایران کو کسی بھی شکل میں اقتصادی یا تجارتی سہارا فراہم کرتے ہیں کہ انہیں امریکی پابندیوں اور دیگر اقتصادی اقدامات کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ ایرانی تیل کی برآمدات میں کمی اور ملک کے اندر ایندھن کی مارکیٹ سمیت مجموعی معیشت پر دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی طویل رکاوٹ کے عالمی تیل اور گیس کی فراہمی اور قیمتوں پر نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔تہران نے امریکی اقدامات کے ممکنہ سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان بیان بازی میں مزید شدت آنے کے خدشات ہیں۔امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل اور جون میں دو مرتبہ جنگ بندی کے معاہدے بھی ہوئے تھے۔ ان معاہدوں کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے آزادانہ بحری آمدورفت بحال کرنا اور تقریباً چھ ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا تھا۔تاہم دونوں جنگ بندی معاہدے زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکے اور خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔ ایسے میں ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو ’’نئی امریکی سرزمین‘‘ قرار دینے والے نقشے کی اشاعت نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پہلے سے جاری کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande