
کیف، 23 اگست (ہ س)۔ ناروے نے یوکرین کے لیے سال 2027 میں 85 ارب نارویجن کرون، یعنی تقریباً 9.2 ارب امریکی ڈالر کی نئی امداد کا اعلان کیا ہے۔ ناروے کے وزیر اعظم جونس گار اسٹور نے اتوار کو کیف کے دورے کے دوران اس امدادی پیکیج کا اعلان کیا۔
ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق، وزیر اعظم اسٹور نے کہا کہ ناروے یوکرین کی دفاعی جدوجہد میں اس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اعلان کے ذریعے ناروے یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ وہ یوکرین کے عوام اور اس کی فوج، دونوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
مجموعی امدادی پیکیج میں سے 70 ارب نارویجن کرون، تقریباً 7.5 ارب ڈالر، فوجی امداد کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ 15 ارب کرون، تقریباً 1.6 ارب ڈالر، شہری امداد کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔سال 2027 کے لیے اعلان کردہ یہ پیکیج مسلسل تیسرا سال ہوگا جب ناروے یوکرین کو سالانہ 85 ارب نارویجن کرون کی امداد فراہم کرے گا۔کیف کے دورے کے دوران ناروے کے وزیر اعظم نے روس کے خلاف بھی سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کے عوام روزانہ روس کی جنگ کے نتائج کا سامنا کر رہے ہیں۔
اسٹور نے یوکرینی شہروں اور اہم بنیادی ڈھانچے پر روسی میزائل اور ڈرون حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہری علاقوں کو منظم حکمت عملی کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے بقول، یوکرین اپنی آزادی، خودمختاری اور اپنے مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کے حق کے لیے جنگ لڑ رہا ہے اور ایسی صورتحال میں ناروے کے لیے یوکرینی عوام کے ساتھ کھڑا رہنا ضروری ہے۔جونس گار اسٹور اتوار کو نارڈک اور بالٹک ممالک کے رہنماؤں کے ہمراہ کیف پہنچے۔ اپنے دورے کے دوران وہ یوکرین اور نارڈک و بالٹک ممالک کے درمیان ہونے والی سربراہی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔
اس کے علاوہ اسٹور کی یوکرین کے قومی پرچم کے دن سے متعلق پروگراموں میں شرکت اور یوکرینی حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ناروے کی جانب سے نئی امداد کے اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ اوسلو یوکرین کو فوجی اور شہری، دونوں محاذوں پر طویل مدتی تعاون فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan