
بسان، 23 اگست (ہ س)۔
جنوبی کوریا کا ایک کنٹینر جہاز ہفتہ کے روز پہلی بار آرکٹک روٹ کے ذریعے یورپ کے لیے روانہ ہوا۔ اس پائلٹ آپریشن کا مقصد آرکٹک سمندری راستے کے تجارتی امکانات اور اس کے ذریعے ایشیا اور یورپ کے مابین تجارت کے مواقع کا جائزہ لینا ہے۔
جنوبی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی یونہاپ نے اوشن منسٹری کے حوالے سے بتایا کہ ’پین اسٹار ایکرو‘ نامی کنٹینر جہاز جنوب مشرقی ساحلی شہر بسان سے رات تقریباً 9 بجے روانہ ہوا۔ جہاز کے 30 اگست کے آس پاس ناردرن سی روٹ میں داخل ہونے اور 7 ستمبر کے آس پاس آرکٹک سمندری خطے سے گزرنے کی امید ہے۔
سفر کے دوران جہاز 9 ستمبر کو برطانیہ کی فیلکس اسٹو بندرگاہ، 11 ستمبر کو نیدرلینڈز کی روٹرڈیم بندرگاہ اور 15 ستمبر کو پولینڈ کی گڈانسک بندرگاہ پر پہنچے گا۔ اس کے بعد جہاز کے 5 اکتوبر کو واپس بسان لوٹنے کا منصوبہ ہے۔ یہ پورا سفر تقریباً 45 دنوں میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ آرکٹک سمندری خطے سے طے کی جانے والی دوری تقریباً 6,400 کلومیٹر ہوگی۔
یہ پہلا موقع ہے کہ جب جنوبی کوریا کے کسی کنٹینر جہاز نے آرکٹک روٹ پر پائلٹ آپریشن کیا ہے۔ اس کے علاوہ، 2016 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی کوریائی جہاز نے اس راستے سے سفر کیا ہو۔
’پین اسٹار ایکرو‘ کی گنجائش 2,758 ٹی ای یو (ٹوئنٹی فٹ ایکویلینٹ یونٹ) ہے اور برفیلے سمندری علاقے میں سفر کے لیے اس میں آئس-کلاس کی صلاحیت موجود ہے۔ بسان میں قائم پین اسٹار لائن اس جہاز کو چلاتی ہے۔ فی الحال، جہاز پر 837 ٹی ای یو کارگو لدا ہے، جس میں کیمیائی مصنوعات، پرانی کاریں، آٹو پارٹس اور خالی کنٹینرز شامل ہیں۔
آرکٹک شپنگ روٹس بحرِ منجمد شمالی (آرکٹک اوشن) سے گزرنے والے وہ سمندری راستے ہیں جو ایشیا اور یورپ کے درمیان روایتی راستوں کے مقابلے میں کم فاصلے اور زیادہ موثر نقل و حمل کا متبادل فراہم کر سکتے ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے آرکٹک کے خطے میں سمندری برف پگھلنے سے ان راستوں کے استعمال کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ وہیں، مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سمندری گزرگاہوں کے متاثر ہونے سے بھی متبادل راستوں میں دلچسپی بڑھی ہے۔
جنوبی کوریا کی حکومت آرکٹک اور شمالی سمندری راستوں کی توسیع کے پیشِ نظر بسان کو ملک کے ایک اہم سمندری مرکز کے طور پر ترقی دینے پر زور دے رہی ہے۔ صدر لی جائے میونگ کی انتظامیہ نے اوشن منسٹری کو سیئول سے بسان منتقل کر دیا ہے۔
حکومت کا ماننا ہے کہ شمالی شپنگ روٹ کے فروغ سے جنوبی کوریا کی سمندری صنعت اور ایک عالمی لاجسٹکس ہب کے طور پر بسان کے کردار کو زبردست تقویت مل سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن