
دی ہیگ، 23 اگست (ہ س)۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت(آئی سی سی) کی صدر توموکو اکانے نے امریکہ کی جانب سے ان کے اور عدالت کے ایک دیگر سینئر عہدیدار پر عائد پابندیوں پر سخت تنقید کی ہے۔ اکانے نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے بین الاقوامی قانون اور عدالتی اداروں کی آزادی کمزور ہوسکتی ہے۔
روسی بین الاقوامی خبر رساں ٹی وی نیٹ ورک رشیا ٹوڈے (آر ٹی) کے مطابق، امریکہ نے گزشتہ منگل کو آئی سی سی کی صدر توموکو اکانے اور عدالت کے سینئر ٹرائل وکیل عبداللہ سیے پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آئی سی سی کو ’’بدعنوان‘‘ اور سیاسی طور پر متحرک ادارہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ عدالت اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرکے کام کر رہی ہے۔جاپانی پبلشر بونگئی شونجو کی سوشل میڈیا پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک تبصرے میں اکانے نے کہا کہ انہیں کسی حد تک اپنے خلاف پابندیوں کی توقع تھی۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان اقدامات کو ’’بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کے خاتمے کا آغاز‘‘ نہ بننے دیا جائے۔
آئی سی سی نے بدھ کو امریکہ کی جانب سے عائد نئی پابندیوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں ایک غیر جانب دار عدالتی ادارے کی آزادی پر کھلا حملہ قرار دیا۔واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ آئی سی سی نے ایسے ممالک کے شہریوں کو نشانہ بنایا ہے جنہوں نے نہ تو عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی روم اسٹیچوٹ کی توثیق کی ہے۔آئی سی سی کا قیام 2002 میں روم اسٹیچوٹ کے تحت نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی سماعت کے لیے عمل میں آیا تھا۔ اس وقت عدالت کے 123 رکن ممالک ہیں۔ تاہم امریکہ، روس، چین اور بھارت سمیت کئی بڑے ممالک نے یا تو روم اسٹیچوٹ پر دستخط نہیں کیے یا اس کی توثیق نہیں کی۔
آئی سی سی اس سے قبل افغانستان میں امریکی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں پر مبینہ جرائم کی تحقیقات کرچکی ہے، جبکہ امریکہ عدالت کا رکن نہیں ہے۔اسرائیل بھی آئی سی سی کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس کے باوجود عدالت نے 2024 میں غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے معاملے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور اس وقت کے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ فروری 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان وارنٹوں کی مذمت کرتے ہوئے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے۔آئی سی سی کو افریقہ میں بھی تنقید کا سامنا رہا ہے۔ برکینا فاسو، مالی، نائیجر اور چاڈ نے حال ہی میں عدالت سے علیحدگی کا عمل شروع کیا ہے۔ ان ممالک نے الزام لگایا ہے کہ آئی سی سی افریقی ممالک کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بناتی رہی ہے۔فلپائن 2019 میں آئی سی سی سے الگ ہوگیا تھا، تاہم رکنیت کے دوران کیے گئے مبینہ جرائم پر عدالت کا دائرہ اختیار برقرار رہا۔ مارچ 2025 میں سابق صدر روڈریگو دوتیرتے کو آئی سی سی کے وارنٹ پر گرفتار کرکے دی ہیگ منتقل کیا گیا تھا۔ ان پر منشیات کے خلاف مہم کے دوران انسانیت کے خلاف مبینہ جرائم کے الزامات ہیں۔روس بھی آئی سی سی کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا۔ مارچ 2023 میں عدالت نے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور بچوں کے حقوق کی کمشنر ماریا لووا بیلووا کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ ان پر یوکرینی بچوں کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر روس منتقل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan