
نئی دہلی، 23 اگست (ہ س)۔ قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے بہار ایس ٹی ایف کے ساتھ مشترکہ کارروائی میں اے کے 47 رائفلوں اور زندہ کارتوس کی بازیابی سے متعلق معاملے میں ایک اور مفرور ملزم کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ملزم کی شناخت ضلع سارن کے چیتن پرسا کے رہائشی کرم اللہ کے طور پر ہوئی ہے۔ اسے سنیچر کو سارن سے گرفتار کیا گیا۔
این آئی اے کے مطابق کرم اللہ نے دیگر شریک ملزموں کے ساتھ مل کر ناگالینڈ سے بہار میں ممنوعہ بور کے جدید ترین ہتھیاروں کی اسمگلنگ کی سازش کی تھی۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ اس سازش کا مقصد عوامی امن و سلامتی کو متاثر کرنا اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا تھا۔
یہ معاملہ این آئی اے آر سی-11/2024/این آئی اے/ڈی ایل آئی سے متعلق ہے۔ کیس کا آغاز 7 مئی 2024 کو مظفر پور کے فکولی پولیس اسٹیشن میں درج کیس نمبر 19/2024 سے ہوا۔ مورگٹیہ پل کے قریب ایک اے کے 47 رائفل، لینس اور زندہ کارتوس برآمد ہونے کے بعد پولیس نے چاروں ملزموں کو گرفتار کیا تھا۔
تحقیقات کے آگے بڑھنے کے بعد این آئی اے نے اس معاملے میں کئی ضمنی چارج شیٹ دائر کیں۔ 8 مئی 2025 کو ایجنسی نے وکاس کمار، ستیم کمار، دیومنی رائے اور احمد انصاری کے خلاف پہلی ضمنی چارج شیٹ دائر کی تھی۔ ان پر تعزیرات ہند کی دفعہ 120 بی اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) قانون کی دفعہ 13 اور 18 کے تحت الزام عائد کیا گیا۔
اس کے بعد 20 فروری 2026 کو منظور خان کے خلاف دوسری ضمنی چارج شیٹ دائر کی گئی۔ اس پر تعزیرات ہند کی دفعہ 120 بی، آرمز ایکٹ کی دفعہ 25 (1 اے اے)، 26 اور 35 اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کی دفعہ 13 اور 18 کے تحت الزام عائد کیا گیا تھا۔
این آئی اے نے 15 اپریل 2026 کو کندن کمار عرف کندن بھگت کے خلاف تیسری ضمنی چارج شیٹ دائر کی۔ اس کے خلاف تعزیرات ہند، آرمز ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت بھی کارروائی کی گئی۔
اس کیس کے ایک اور ملزم بھیرو ترپاٹھی کو حال ہی میں 19 اگست 2026 کو مظفر پور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق معاملے میں مفرور ملزم کی تلاش اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ سے متعلق سازش کی تحقیقات جاری ہے۔
ایجنسی نے کہا کہ اس معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی