مونگ کی دال جتنی سائز کامکہ اور مدینہ بنایا،خوردبین سے نظر آتا فن پارہ
ادے پور، 22 اگست (ہ س)۔ ادے پور کے مشہور منی ایچر آرٹسٹ اور سنار ڈاکٹر اقبال سکا نے اپنے فن کی ایک اور منفرد مثال پیش کی ہے۔ انہوں نے مکہ اور مدینہ شریف کی نقلیں بنائی ہیں جن کا سائز صرف 1 ملی میٹر ہے۔ مونگ کی دال کے سائز کے ان فن پاروں کو دیکھنے ک
Makkah-Madinah-crafted-moong-bean-microscope


ادے پور، 22 اگست (ہ س)۔ ادے پور کے مشہور منی ایچر آرٹسٹ اور سنار ڈاکٹر اقبال سکا نے اپنے فن کی ایک اور منفرد مثال پیش کی ہے۔ انہوں نے مکہ اور مدینہ شریف کی نقلیں بنائی ہیں جن کا سائز صرف 1 ملی میٹر ہے۔ مونگ کی دال کے سائز کے ان فن پاروں کو دیکھنے کے لیے مائکروسکوپک لینس کی ضرورت ہوتی ہے۔ عید میلاد النبی کے موقع پر تیار کئے گئے اس فن پارے کو ڈاکٹر سکا سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کو تحفے کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر سکا کے مطابق مکہ شریف کی نقل میں سونے سے خانہ کعبہ کا ڈھانچہ تیار کیا گیاہے۔ اس میں باریک میناریں اور مرکزی دروازہ بھی بنایا ہے۔ خانہ کعبہ کو سیاہ مخملی پردے سے سجایا گیا ہے۔ مشرقی دیوار میں ایک چاندی کا فریم ہےحجراسود کی طرح سعودی عرب سے لائے گئے پتھر کی باریک کٹنگ کر کے جڑا گیا ہے۔

اسی طرح مدینہ منورہ کی 1 ملی میٹر سائز کی نقل بھی بنائی گئی ہے۔ اس میںباریک میناروں کے ساتھ ایک سبز گنبد اور گنبد خضرہ کے اوپر ایک چھوٹی سی کھڑکی بنائی گئی ہے۔ اس فن پارے میں سعودی عرب کے قومی پرچم اور ہندوستانی ترنگے کو بھی دکھایا گیا ہے، جس پر عربی میں لا الہ الا اللہ لکھا ہے۔

ڈاکٹر سکا نے وضاحت کی کہ اس فن پارے کو تخلیق کرنے میں تقریباً سات دن لگے۔ اس میں 2 گرام چاندی اور 100 ملی گرام سونا استعمال کیا گیا۔ 211 بین الاقوامی عالمی ریکارڈ اپنے نام کرچکے ڈاکٹر سکا نے 140 کروڑ ہندوستانیوں کی جانب سے اس فن پارے کو سعودی وزیر اعظم کو پیش کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے نئی دہلی میں سعودی عرب کے سفارت خانے اور سعودی وزیر اعظم کو ایک خط بھیجا ہے۔

ہندستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande