
21 اگست کو اس عظیم شخصیت کی برسی منائی جاتی ہے، جنہوں نے شہنائی کی مدھر دھن کے ذریعے ہندوستانی موسیقی کو پوری دنیا میں نئی شناخت دلائی۔ انہوں نے نہ صرف ہندوستانی موسیقی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا بلکہ شہنائی کو کلاسیکی موسیقی کے اہم ساز کے طور پر مستحکم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ہم بات کر رہے ہیں عظیم شہنائی نواز استاد بسم اللہ خان کی، جن کا نام ہندوستانی موسیقی کی دنیا میں انتہائی احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
انہوں نے اپنی زندگی شہنائی اور موسیقی کی ریاضت کے لیے وقف کر دی تھی اور شہنائی کو اپنی ”بیگم“ کہا کرتے تھے۔ اپنی غیر معمولی صلاحیت اور ریاضت کے بل پر انہوں نے نہ صرف ملک بلکہ دنیا کے کئی حصوں میں شہنائی کی مدھر تان سے سامعین کو مسحور کیا۔ انہوں نے فلموں کے لیے بھی شہنائی بجائی اور ’سناّدی اپنّا‘، ’گونج اٹھی شہنائی‘ اور ستیہ جیت رے کی ’جلسہ گھر‘ جیسی فلموں میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا جادو جگایا۔
15 اگست 1947 کو ملک کی آزادی کے موقع پر انہوں نے لال قلعے سے شہنائی کی مدھر دھن کے ذریعے آزادی کا استقبال کیا تھا۔ آزاد ہندوستان کی ابتدائی جمہوری تقریبات سے وابستہ ان کی شہنائی کی دھن نے انہیں قومی یادداشت کا حصہ بنا دیا۔ یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعے سے وزیر اعظم کے خطاب کے بعد شہنائی بجانے کی روایت بھی طویل عرصے تک ان کے نام سے جڑی رہی۔
بسم اللہ خان اور ہندوستان کی آزادی کا بھی تاریخی رشتہ رہا ہے۔ 1947 میں آزادی کے موقع پر جب لال قلعے پر ملک کا پرچم لہرایا جا رہا تھا، اس وقت ان کی شہنائی بھی وہاں آزادی کا پیغام بکھیر رہی تھی۔ اس کے بعد تقریباً ہر سال 15 اگست کو وزیر اعظم کی تقریر کے بعد بسم اللہ خان کی شہنائی بجانے کی روایت بن گئی۔
موسیقی کے شعبے میں ان کی نمایاں خدمات کے لیے انہیں پدم شری، پدم بھوشن اور پدم وبھوشن سمیت کئی باوقار اعزازات سے نوازا گیا۔ سال 2001 میں انہیں ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز ’بھارت رتن‘ سے سرفراز کیا گیا۔ 21 اگست 2006 کو ان کے انتقال سے ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی دنیا نے ایک انمول رتن کھو دیا۔
اہم واقعات
1915: پہلی عالمی جنگ کے دوران اٹلی نے ترکی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔
1944: امریکہ، برطانیہ، روس اور چین کے نمائندوں نے اقوام متحدہ کی تنظیم کے قیام کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کے لیے ملاقات کی۔
1959: ہوائی امریکہ کی 50ویں ریاست بنا۔
1968: چیکوسلواکیہ کے مقامی ریڈیو نے پیراگوئے پر سوویت یونین کی قیادت میں حملے کا اعلان کیا۔
1986: کیمرون میں آتش فشاں پھٹنے سے خارج ہونے والی زہریلی گیس کے باعث تقریباً 2000 افراد ہلاک ہوئے۔
1988: بھارت-نیپال سرحد پر آنے والے شدید زلزلے میں ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے۔
1997: مشرقی چین میں آنے والے سمندری طوفان ’وِنی‘ سے 140 افراد ہلاک اور تین ہزار زخمی ہوئے۔
2005: بنگلہ دیش اور بھارت کے سرحدی حفاظتی دستوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔
2006: بھارت رتن سے سرفراز معروف شہنائی نواز استاد بسم اللہ خان کا انتقال ہوا۔
2008: چاند پر مشن کے لیے بھارت نے ناسا کے ساتھ اشتراک کیا۔
2012: افریقی ملک جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے انفیکشن سے 20 افراد ہلاک ہوئے۔
2013: ملائیشیا میں چِن سوی مندر کے قریب بس حادثے میں 37 افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔
2014: رفح میں اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کے تین اعلیٰ کمانڈر مارے گئے۔
پیدائش
1910: نارائن شری دھر بیندرے — معروف ہندوستانی مصور۔
1927: بی۔ ستیہ نارائن ریڈی — مجاہد آزادی، سوشلسٹ رہنما اور اتر پردیش، اوڈیشہ اور مغربی بنگال کے سابق گورنر۔
1931: سدھاکر راو¿ نائک — کانگریس کے رہنما۔
1949: احمد پٹیل — کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما۔
1953: شیلش نائک — ہندوستانی سائنس داں۔
1961: وی۔ بی۔ چندر شیکھر — سابق ہندوستانی کرکٹر۔
1979: پیما کھانڈو — اروناچل پردیش کے موجودہ وزیر اعلیٰ۔
وفات
1931: وشنو دگمبر پلوسکر — معروف کلاسیکی گلوکار۔
1978: وینو مانکڈ — ہندوستان کے عظیم کرکٹ کھلاڑیوں میں سے ایک۔
1995: سبرمنیم چندر شیکھر — ماہر طبیعیات۔
2006: استاد بسم اللہ خان — ’بھارت رتن‘ سے سرفراز معروف شہنائی نواز۔
2009: بابو لال گور — مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ۔
2021: کلیان سنگھ — معروف ہندوستانی سیاست داں، اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور راجستھان کے سابق گورنر۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ