
۔
وردھا ضلع میں نایاب بلیک بریسٹڈ ویور کی پہلی بار تصویری ریکارڈنگ کی گئی ہے۔ یہ پرندہ سمودرپور تعلقہ کے ایک دیہی علاقے میں بلند گھاس کے درمیان دیکھا گیا، جہاں نر اور مادہ سمیت مجموعی طور پر چھ پرندے موجود تھے۔ اس مقام پر پانچ ادھورے گھونسلے بھی پائے گئے، جبکہ پرندوں کو گھونسلے بنانے میں مصروف دیکھا گیا۔ وردھا ، 19 اگست (ہ س)
یہ ریکارڈنگ ہنگن گھاٹ کے پرندوں کے مطالعہ کار اور سانپ دوست پروین کڑو، جنہیں ہنگن گھاٹ بھوشن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، وردھا کے پرندوں کے مطالعہ کار اور وائلڈ لائف فوٹوگرافر راہل واکارے، یشونت شونکر اور انیل گڈوانی نے کی۔ مراٹھی میں کالیا چھاتیچی سگرن، انگریزی میں بلیک بریسٹڈ ویور سے پہچانا جانے والا یہ پرندہ ویور خاندان کی ایک نمایاں نسل ہے۔ وردھا ضلع میں اس سے قبل اس پرندے کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہ ہونے کے باعث یہ دریافت ضلع کے پرندوں اور حیاتیاتی تنوع کے مطالعے کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہے۔
نمایاں جسمانی خصوصیات : تقریباً 15 سینٹی میٹر لمبے اور 18 سے 22 گرام وزنی اس پرندے کو اس کی منفرد رنگت سے آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔ افزائش کے موسم میں نر کا ماتھا زرد، جبکہ چہرہ، گردن کا پچھلا حصہ اور سینے کا بڑا حصہ سیاہ ہوتا ہے۔ جسم کا اوپری حصہ بھورا اور نچلا حصہ نسبتاً ہلکے رنگ کا ہوتا ہے۔ یہ پرندہ عموماً گھاس کے میدانوں، آبی علاقوں اور بلند گھاس والے مسکن میں پایا جاتا ہے۔
مشرقی ودربھ میں پہلے سے ریکارڈ موجود : مہاراشٹر میں اس نسل کی موجودگی کا جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تقسیم محدود ہے۔ مشرقی ودربھ کے چندرپور، ناگپور، گوندیا اور بھنڈارا اضلاع میں ای برڈ پر اس پرندے کے ریکارڈ دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ دھولے اور ناسک میں بھی اس کے اکا دکا ریکارڈ ملتے ہیں۔ تاہم وسطی اور مغربی ودربھ، خان دیش، مراٹھواڑہ اور ممبئی تک اس پرندے کے ریکارڈ دستیاب نہ ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔
ا بریسٹڈ ویور کی پہلی تصویری ریکارڈنگ سے ضلع میں پرندوں کے تنوع اور مقامی حیاتیاتی تنوع کے مطالعے کے لیے اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔وردھا میں بلیک
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے