
نئی دہلی، 2 اگست(ہ س )۔
عام آدمی پارٹی نے دہلی لکشمی یوجنا کی شرائط کو لے کر بی جے پی پر شدید حملہ کیا ہے۔ آپ کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بی جے پی کی ریکھا گپتا حکومت نے پوروانچلیوں کو لکشمی یوجنا سے باہر رکھنے کے لیے دہلی میں 10 سال سے رہائش کی شرط عائد کی ہے۔ بی جے پی کو ووٹ تو سب کا چاہیے، لیکن خواتین کو 2500 روپے دینے کے لیے ان سے 10 سال کا رہائشی سرٹیفکیٹ مانگا جا رہا ہے۔ انہوں نے درخواست کے لیے ارکانِ پارلیمنٹ اور ارکانِ اسمبلی کے خط کی شرط پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ ارکانِ پارلیمنٹ اور ارکانِ اسمبلی کے دستخط کی شرط کیوں عائد کی گئی ہے؟ کیا اب خواتین ارکانِ پارلیمنٹ اور ارکانِ اسمبلی کے دفاتر کے چکر کاٹیں گی اور دھکے کھائیں گی، تب انہیں اس اسکیم کا فائدہ ملے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی پوروانچلیوں اور خواتین سے نفرت کرتی ہے اور یہی نفرت لکشمی یوجنا اور پنک کارڈ میں ظاہر ہو رہی ہے۔ دہلی حکومت کی لکشمی یوجنا کے حوالے سے سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اگر کسی کو بیوہ پنشن، بزرگ پنشن، معذور پنشن یا کسی بھی سرکاری اسکیم کا فائدہ حاصل کرنا ہو تو اس کے لیے کسی رکنِ اسمبلی یا رکنِ پارلیمنٹ کے دستخط کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ فارم مکمل طور پر خود تصدیق شدہ ہوتا ہے۔ لوگوں کو صرف خود اس کی تصدیق کرکے اسے اپ لوڈ کرنا ہوتا ہے اور پنشن منظور ہو جاتی ہے۔ پھر لکشمی یوجنا کے لیے کسی خاتون کو رکنِ پارلیمنٹ یا رکنِ اسمبلی کے دروازے پر جانے کی ضرورت کیوں پڑے؟ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو بتانا چاہیے کہ وہ کیوں چاہتی ہیں کہ ہماری بہنیں ان ارکانِ پارلیمنٹ اور ارکانِ اسمبلی کے دروازوں پر جا کر دھکے کھائیں اور اس کے بعد انہیں لکشمی یوجنا کا فائدہ ملے؟ حکومت کا اس کے پیچھے کیا مقصد ہے، انہیں یہ واضح کرنا چاہیے۔ سوربھ بھاردواج نے مزید کہا کہ میں بی جے پی حکومت کے تمام وزراءکو دیکھتا ہوں۔ خود ریکھا گپتا ہریانہ سے آئی ہیں اور دہلی کی وزیر اعلیٰ بن گئی ہیں۔ کوئی وزیر بہار کے پس منظر سے تعلق رکھتا ہے، تو کوئی کہیں اور سے آکر دہلی میں وزیر بن گیا ہے۔ لیکن لکشمی یوجنا کا فائدہ صرف اسی خاتون کو ملے گا جو 10 سال سے دہلی میں رہ رہی ہو۔ ایسا کیوں ہے؟ اس طرح کا اصول دہلی میں پہلے کبھی نہیں تھا۔ کیا بی جے پی نے انتخابات کے دوران کبھی یہ کہا تھا کہ جو شخص 10 سال پہلے دہلی آیا ہے، صرف اسی سے ہمیں ووٹ چاہیے؟ ووٹ تو انہیں ہر شخص کا چاہیے، اس شخص کا بھی جو صرف ایک سال پہلے دہلی آیا ہے۔ جب ووٹ سب سے لینا ہے تو لکشمی یوجنا کا فائدہ دیتے وقت 10 سال کی شرط کیوں عائد کی گئی؟ حقیقت میں یہ پوروانچلیوں اور غریب عوام کے خلاف ان کے اندر موجود نفرت اور زہر ہے، جو بار بار باہر آجاتا ہے۔ سوربھ بھاردواج نے مزید کہا کہ خواتین کے لیے جو پنک کارڈ لایا گیا ہے، وہ بھی اسی نفرت کا حصہ ہے۔ بسوں میں سفر کرنے والی خواتین کو باآسانی پہچانا جا سکتا ہے، خواہ وہ شلوار سوٹ پہن کر آئیں، ساڑی میں ہوں یا جینز اور ٹی شرٹ میں۔ اس کے لیے الگ سے پنک کارڈ بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ہریانہ، راجستھان، اترپردیش اور بہار سے دہلی-این سی آر میں روزگار کے لیے آنے والی ہماری بہنوں کا کسی نہ کسی طرح حق مارا جا سکے۔ جو خواتین یہاں کئی برسوں سے رہ رہی ہیں اور جن کا ووٹر کارڈ آج بھی ان کی آبائی ریاست کا ہے، حکومت ان سے ووٹ تو لے لیتی ہے، لیکن ان کے حقوق چھیننا چاہتی ہے۔ اسی لیے پہلے خواتین کے لیے مفت سفر کا پنک پاس لایا گیا اور اب لکشمی یوجنا میں 10 سال کی رہائش کی شرط عائد کر دی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais