
پلامو، 02 اگست (ہ س)۔
جھارکھنڈ کے ضلع پلامو کے پانکی تھانہ علاقے کے سکلدیپا اوراو ں ٹولہ میں دو آدیواسی بچیوں کے مبینہ اغوا کا معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ اس سلسلے میں اتوار کو پانکی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر کشواہا ششی بھوشن مہتا سکلدیپا پہنچے، متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
رکن اسمبلی نے الزام لگایا کہ ماڑن گاؤں کے رہائشی وسیم انصاری نے 17 سالہ اور 7 سالہ دو آدیواسی بچیوں کو اغوا کر لیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اغوا میں مبینہ معاون جمشید انصاری کو پانکی پولیس نے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے، جبکہ مرکزی ملزم وسیم انصاری اب بھی مفرور ہے۔
ڈاکٹر مہتا نے الزام لگایا کہ ملزمان سکلدیپا کے آدیواسی برادری کے لوگوں کو جان سے مارنے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، جس کے باعث پورے علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔
انہوں نے پولیس انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ مفرور ملزم وسیم انصاری کو فوری گرفتار کیا جائے اور دونوں بچیوں کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آدیواسی سماج کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی نہ کی گئی تو بھارتیہ جنتا پارٹی سڑک سے لے کر ایوان تک احتجاجی تحریک چلائے گی۔رکن اسمبلی نے انتظامیہ سے متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کرنے اور معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔
لیسلی گنج کے ایس ڈی پی او پرشانت کمار اور پانکی تھانہ پولیس متاثرہ خاندان سے ملاقات کرکے معاملے کی تفتیش میں مصروف ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ