
نئی دہلی، 02 اگست (ہ س)۔
عام آدمی پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ دہلی حکومت نے طالبات میں تقسیم کی جانے والی سائیکلوں کی خریداری میں تقریباً 90 کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ٹینڈر کی شرائط پہلے سے اس طرح طے کی گئی تھیں کہ ٹھیکہ صرف ایک مخصوص کمپنی کو ملے اور سائیکلیں بازار کی قیمت سے کہیں زیادہ نرخ پر خریدی جائیں۔
دہلی پردیش کے صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ جس سائیکل کی بازار میں قیمت 4,100 روپے ہے، اس کی قیمت ٹینڈر میں 6,923 روپے مقرر کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ 1.30 لاکھ سائیکلوں کے ٹینڈر کے لیے کمپنی کا سالانہ ٹرن اوور 360 کروڑ روپے مقرر کیا گیا، جبکہ قواعد کے مطابق یہ 180 کروڑ روپے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ حکومت نے پری-بڈ میٹنگ منعقد نہیں کی اور 4,100 روپے میں سائیکل فراہم کرنے کے لیے تیار کمپنیوں کو بھی مدعو نہیں کیا گیا۔
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ایس کے بائیکس اور دیگر کمپنیوں نے اس معاملے میں لیفٹیننٹ گورنر، وزیر اعلیٰ اور ویجیلنس محکمے کو تحریری شکایات دی ہیں، لیکن اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ٹرن اوور کا حساب جان بوجھ کر گزشتہ مالی سال کو شامل کیے بغیر کیا گیا، تاکہ کم قیمت پر سائیکل فراہم کرنے والی کمپنیاں ٹینڈر سے باہر ہو جائیں۔
انہوں نے کہا کہ راجستھان نے 3.70 لاکھ سائیکلوں کے ٹینڈر کے لیے 150 کروڑ روپے کا ٹرن اوور مقرر کیا، جبکہ چھتیس گڑھ نے 1.60 لاکھ سائیکلوں کے ٹینڈر کے لیے 90 کروڑ روپے کا ٹرن اوور رکھا۔ اس کے برعکس دہلی حکومت نے 1.30 لاکھ سائیکلوں کے لیے 360 کروڑ روپے کے ٹرن اوور کی شرط رکھی، جو سنٹرل ویجلنس کمیشن (سی وی سی) کی ہدایات کے خلاف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شکایات کے مطابق حکومت نے سائیکلیں 6,957 روپے فی سائیکل کے حساب سے خریدی ہیں، جبکہ وہی سائیکل تھوک بازار میں تقریباً 4,500 روپے میں دستیاب ہے۔ الزام ہے کہ اس ٹینڈر میں تقریباً 36 کروڑ روپے کی کمیشن خوری کی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ