مسنون نکاح تحریک کے تحت مسنون رشتے آمنے سامنے کا نواں پروگرام
مولانا غیاث احمد رشادی اور مفتی تجمل حسین قاسمی کا خطاب نئی دہلی ،02اگست (ہ س )۔ نکاح اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ایک مقدس اور بابرکت نظام، انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم تعلیمات میں سے ہے، جس طرح والدین اپنی
مسنون نکاح تحریک کے تحت مسنون رشتے آمنے سامنے کا نواں پروگرام


مولانا غیاث احمد رشادی اور مفتی تجمل حسین قاسمی کا خطاب

نئی دہلی ،02اگست (ہ س )۔

نکاح اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ایک مقدس اور بابرکت نظام، انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم تعلیمات میں سے ہے، جس طرح والدین اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ زندگی کے دیگر شعبوں کی فکر کرتے ہیں، اسی طرح انتہائی ضروری ہے کہ والدین اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کو باضابطہ طور پر ازدواجی زندگی کے تقاضوں اور اس کی ذمہ داریوں سے ا?گاہ کرائیں ، ان کی ذہنی و فکری رہنمائی کی جائے، بالخصوص لڑکیوں کو سسرال کے ماحول، وہاں کے رہن سہن، آدابِ زندگی، عزت و احترام اور باہمی حقوق و فرائض سے واقف کرایا جائے اور ایثار و قربانی کے ساتھ زندگی گزارنے کی تلقین کریں تاکہ ان کی ازدواجی زندگی خوشگوار، پ±رامن اور کامیاب بن سکے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا غیاث احمد رشادی صدر صفا بیت المال، منبر و محراب فاو?نڈیشن اور صدر مسنون نکاح تحریک نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام منعقدہ مسنون رشتے ا?منے سامنے کے نویں پروگرام کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مولانا نے کہا کہ مسنون نکاح تحریک کے زیر اہتمام طے کیے جانے والا ہرنکاح مکمل طور پر سنت کے مطابق ہونا چاہیے اور زندگی کے ہر ہر معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقے کو اختیار کیا جائے۔ پروگرام میں شریک مفتی محمد تجمل حسین قاسمی نائب صدر مسنون نکاح تحریک نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو یہ تعلیم دی ہے کہ جو نکاح کم خرچ والا ہو ، جس نکاح میں تکلفات اور دشواریاں نہ ہوں اور جس میں سادگی اختیار کی جائے وہی حقیقی معنوں میں باعثِ خیر و برکت ہے۔ نکاح اور ازدواجی زندگی میں پیدا ہونے والے اختلافات، کشیدگی اور انتشار کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے نکاح سنتِ نبوی? کی روح سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

مفتی تجمل حسین قاسمی نے کہا کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے سرپرستوں کو چاہیے کہ وہ مال و دولت، رنگ و روپ اور ظاہری حسن کے بجائے دینداری، تقویٰ اور للہیت کو رشتوں کی بنیاد بنائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاظفر بذات الدین کی تعلیم دے کر یہی رہنمائی فرمائی ہے کہ مال و جائیداد، شکل و صورت اور ظاہری کشش کے بجائے دینداری کو ترجیح دیتے ہوئے رشتوں کا انتخاب کیا جائے۔مولانا غیاث احمد رشادی نے مسنون نکاح تحریک کے اس پروگرام کو وقت کی اہم ضرورت اور قابلِ مبارک کوشش قرار دیتے ہوئے حاضرین خصوصاً خواتین کو اس سے بھرپور استفادہ کرنے کی ترغیب دی۔ مولانا سعادت حسین قاسمی اور ان کے اعوان و انصار نے نہایت منظم انداز میں انتظامات انجام دیے، جبکہ یونیک ہائی اسکول، ملک پیٹ کے ذمہ داران نے بھی خصوصی دلچسپی کے ساتھ پروگرام کی نگرانی کی۔

واضح ہو کہ اس پروگرام کے انعقاد میں صالحہ ایجوکیشنل سوسائٹی اورAaita مینجمنٹ کا بطور خاص تعاون رہا۔ مسنون رشتے آمنے سامنے کے اس نویں پروگرام میں کثیر تعداد میں لڑکوں اور لڑکیوں کے سرپرستوں نے شرکت کرتے ہوئے اپنے رشتوں کے سلسلے میں رجوع کیا۔ سینکڑوں خاندان کے افراد اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کی تفصیلات کے ساتھ شریک ہوئے، جبکہ متعدد رشتے موقع ہی پر طے پا گئے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande