
جماعت اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے تحت کڑکڑڈوما کورٹ مسجد میں درسِ قرآن کا انعقاد
نئی دہلی،02اگست (ہ س )۔
جماعت اسلامی ہند، لکشمی نگر یونٹ کے زیرِ اہتمام آج نمازِ ظہر کے بعد کڑکڑڈوما کورٹ مسجد میں درسِ قرآن کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر امیرِ مقامی فلاح الدین فلاحی نے سورة بقرہ کی ابتدائی پانچ آیات کی تلاوت کرتے ہوئے ان کی تفصیلی تشریح اور پس منظر بیان کیا۔
انہوں نے کہا کہ سورہ بقرہ کا نام اس میں مذکور حضرت موسیٰ کی قوم بنی اسرائیل کے واقع? گائے (بقرہ) کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔ یہ نام علامتی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ سورت کا اصل موضوع ہدایت، ایمان، شریعت اور اسلامی معاشرے کی تشکیل ہے۔
فلاح الدین فلاحی نے بتایا کہ سورہ بقرہ ہجرتِ مدینہ کے بعد ابتدائی دور میں نازل ہوئی، جب رسول اللہ ? کو ایک نئے سماجی اور فکری ماحول کا سامنا تھا۔ مکہ مکرمہ میں دعوتِ اسلام کا مخاطب بنیادی طور پر مشرکینِ مکہ تھے، جو حضرت ابراہیمعلیہ السلام کی نسبت تو رکھتے تھے لیکن شرک اور جاہلیت میں مبتلا ہو چکے تھے۔ وہاں مسلمان شدید آزمائشوں کے باوجود دعوتِ دین کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ مدینہ منورہ میں صورتِ حال مختلف تھی۔ یہاں اور اس کے اطراف میں یہودی اور عیسائی آباد تھے، جنہیں اہلِ کتاب کہا جاتا ہے۔ انبیائے کرام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ لسلام اللہ کے سچے رسول تھے اور وہ بھی اسلام ہی کی تعلیمات لے کر آئے تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کی امتوں میں بگاڑ پیدا ہوگیا۔ آسمانی کتابوں میں تحریف کی گئی، اصل تعلیمات کو بدل دیا گیا اور دین کی روح سے دوری اختیار کر لی گئی۔ یہی وجہ تھی کہ نبی اکرم کو مدینہ میں مشرکین کے ساتھ ساتھ اہلِ کتاب کے سامنے بھی اسلام کی اصل اور خالص تعلیمات پیش کرنے کا ایک نیا چیلنج درپیش تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مدینہ کی ایک چھوٹی سی اسلامی بستی سے رسول اللہ اور صحاب کرام نے دعوتِ اسلام کا عظیم مشن شروع کیا اور یہودی و عیسائی معاشروں سمیت اطراف کے علاقوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔ سور بقرہ کی ابتدائی آیات اسی نئے مرحلے کی فکری بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ ان آیات میں متقین کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، تمام آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں اور آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ یہی اوصاف انسان کو حقیقی کامیابی اور اللہ کی ہدایت کا مستحق بناتے ہیں۔
درس کے اختتام پر فلاح الدین فلاحی نے حاضرین پر زور دیا کہ وہ قرآنِ مجید کو محض تلاوت تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کے پیغام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کریں۔ بعد ازاں ملک میں امن، بھائی چارے، امتِ مسلمہ کی فلاح اور انسانیت کی بھلائی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais