
ریاض/غزہ،یکم اگست(ہ س)۔ حماس کے سینئر رہنما ڈاکٹر غازی حمد نے کہا ہے کہ غزہ کے لیے تیار کیا گیا مجوزہ امن معاہدہ ایک مکمل اور مربوط فریم ورک ہے، جس کی کسی ایک شق پر دیگر نکات سے الگ عمل درآمد ممکن نہیں۔ ان کے مطابق معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسرائیل اپنی تمام ذمہ داریاں مکمل طور پر پوری کرے، کیونکہ ماضی میں متعدد معاہدوں پر عمل درآمد کے حوالے سے اسرائیل کا ریکارڈ اطمینان بخش نہیں رہا۔
ایک عربی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں غازی حمد نے بتایا کہ حماس نے ثالث ممالک اور مختلف فلسطینی دھڑوں سے طویل مشاورت کے بعد اس معاہدے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی موجودہ انسانی اور سکیورٹی صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے، جس کے باعث جنگ کے خاتمے اور شہریوں کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے غیر معمولی فیصلے کرنا ناگزیر تھے۔انہوں نے واضح کیا کہ حماس اس معاہدے کو اپنی خواہش کا مثالی حل نہیں سمجھتی، تاہم موجودہ حالات میں اسے خونریزی روکنے اور ایک نئے مرحلے کی طرف پیش رفت کا واحد قابلِ عمل راستہ تصور کیا گیا ہے۔
غازی حمد کے مطابق مجوزہ معاہدہ جنگ بندی، اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، انسانی امداد کی فراہمی، غزہ کی تعمیرِ نو، انتظامی ڈھانچے اور سکیورٹی انتظامات سمیت تمام امور پر مشتمل ایک جامع پیکیج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثالثوں نے عمل درآمد کے حوالے سے متعدد یقین دہانیاں کرائی ہیں، لیکن حماس ان ضمانتوں کے بارے میں اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل معاہدے کی کسی شق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے اثرات حماس کی ذمہ داریوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ ان کے بقول، معاہدے کی پابندی دونوں فریقوں کے لیے یکساں طور پر ضروری ہے۔
اسلحے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے غازی حمد نے کہا کہ یہ مذاکرات کا سب سے حساس موضوع تھا، جس پر ثالثوں کے ساتھ تفصیلی گفتگو اور متعدد ترامیم کے بعد اتفاق رائے قائم ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے میں اسلحہ اسرائیل کے حوالے کرنے کی کوئی شق شامل نہیں، بلکہ طے شدہ طریقہ کار کے تحت اسے محفوظ رکھنے کا انتظام کیا جائے گا، جس کی نگرانی ایک قومی کمیٹی اور باہمی اتفاق سے طے کیے گئے فریق کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ حماس نے اس شق کا باریک بینی سے جائزہ لیا تاکہ اسے فلسطینی حقوق سے دستبرداری یا سیاسی ہتھیار ڈالنے کے مترادف نہ سمجھا جائے۔ ان کے مطابق سکیورٹی سے متعلق تمام اقدامات ایک متفقہ ٹائم لائن کے تحت دیگر شقوں کے ساتھ مربوط انداز میں نافذ کیے جائیں گے۔
غازی حمد نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ معاہدہ حماس کے سیاسی مؤقف یا قومی نصب العین میں کسی تبدیلی کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس اپنے فلسطینی قومی منصوبے سے نہ ماضی میں دستبردار ہوئی ہے اور نہ آئندہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مرحلے میں غزہ کی انتظامیہ کسی قومی کمیٹی کے سپرد کیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ حماس کا سیاسی یا تنظیمی کردار ختم ہو جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے مسودے کے مطابق منظوری کے 14 روز کے اندر اس پر عمل درآمد شروع ہوگا۔ اس دوران غزہ کی انتظامیہ کے لیے ایک آزاد قومی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، بین الاقوامی استحکام فورس تعینات ہوگی، تعمیرِ نو کا آغاز کیا جائے گا اور اسرائیلی فوج مرحلہ وار انخلا کرے گی۔ تاہم بین الاقوامی نگرانی کے طریقہ کار اور عمل درآمد کی ضمانتوں سمیت چند اہم امور پر ثالثوں کے درمیان مشاورت ابھی جاری ہے، جبکہ حتمی منظوری اور باضابطہ شیڈول کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan