مسلمانوں میں تعدد ازدواج پر پابندی کی درخواست، سپریم کورٹ کا مرکز کو نوٹس
نئی دہلی، 31 جولائی ( ہ س)۔ سپریم کورٹ نے مسلمانوں میں تعدد ازدواج (ایک سے زیادہ شادیوں) کے رواج کو ختم کرنے اور اسے غیر آئینی قرار دینے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے نوٹ
مسلماموں میں تعدد ازدواج پر پابندی کی درخواست، سپریم کورٹ کا مرکز کو نوٹس


نئی دہلی، 31 جولائی ( ہ س)۔

سپریم کورٹ نے مسلمانوں میں تعدد ازدواج (ایک سے زیادہ شادیوں) کے رواج کو ختم کرنے اور اسے غیر آئینی قرار دینے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔

سماجی کارکن ذکیہ سومن کی جانب سے دائر درخواست میں مسلمانوں میں کثرتِ ازدواج کو غیر آئینی قرار دینے، تمام مذاہب کے لیے اس سے متعلق قوانین یکساں طور پر نافذ کرنے اور مسلم پرسنل لا میں اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ بھارتی نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 82، جس میں دوسری شادی پر سزا کا انتظام ہے، اسے کسی بھی مذہبی استثنا کے بغیر تمام شہریوں پر یکساں طور پر نافذ کیا جائے۔

عرضی میں مسلم شادیوں اور طلاق کے لازمی اندراج، دوسری شادی کی صورت میں پہلی بیوی اور بچوں کو فوری قانونی تحفظ اور نان و نفقہ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مسلم پرسنل لا کو آئین میں درج صنفی مساوات کے اصولوں کے مطابق ضابطہ بند کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

درخواست میں سات ریاستوں میں کیے گئے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ 88 فیصد معاملات میں شوہر دوسری شادی سے قبل پہلی بیوی کی رضامندی حاصل نہیں کرتے، جبکہ 79 فیصد معاملات میں پہلی بیوی کو دوسری شادی کی اطلاع تک نہیں دی جاتی، جس کے نتیجے میں خواتین کی معاشی اور سماجی عدم تحفظ میں اضافہ ہوتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande