مسلم راشٹریہ منچ آسام کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے آیا، وزیرِ اعلیٰ ریلیف فنڈ میں مالی تعاون کا اعلان
آسام میں تقریباً چھ لاکھ افراد سیلاب سے متاثر، مسلم راشٹریہ منچ کی ملک بھر سے انسانی ہمدردی اور تعاون کی اپیل نئی دہلی، 31 جولائی(ہ س )۔ آسام میں حالیہ تباہ کن سیلاب سے متاثرہ عوام کی امداد کے لیے مسلم راشٹریہ منچ (ایم آر ایم) نے وزیرِ اعلیٰ آسا
ایم آر ایم


آسام میں تقریباً چھ لاکھ افراد سیلاب سے متاثر، مسلم راشٹریہ منچ کی ملک بھر سے انسانی ہمدردی اور تعاون کی اپیل

نئی دہلی، 31 جولائی(ہ س )۔

آسام میں حالیہ تباہ کن سیلاب سے متاثرہ عوام کی امداد کے لیے مسلم راشٹریہ منچ (ایم آر ایم) نے وزیرِ اعلیٰ آسام کے ریلیف فنڈ میں مالی تعاون دینے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے قومی کنوینر شاہد سعید نے بتایا کہ نئی دہلی کے کلام بھون میں منعقدہ مسلم راشٹریہ منچ کی چھ رکنی کور ٹیم کے ہنگامی اجلاس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ تنظیم نہ صرف وزیرِ اعلیٰ ریلیف فنڈ میں مالی تعاون فراہم کرے گی بلکہ سیلاب زدہ علاقوں تک امدادی سرگرمیوں کو مزید وسعت اور رفتار بھی دے گی۔

اجلاس میں قومی کنوینرز محمد افضل، ڈاکٹر شاہد اختر، گریش جویال، ابو بکر نقوی، ڈاکٹر شالینی علی اور شاہد سعید شریک ہوئے۔ اجلاس میں تمام اراکین نے ملک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آسام کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے فراخ دلی کا مظاہرہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ قدرتی آفات کے موقع پر خدمتِ خلق، ہمدردی اور قومی یکجہتی ہی انسانیت کی حقیقی پہچان ہے۔

اجلاس کا آغاز سیلاب میں جاں بحق ہونے والے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت و ہمدردی کے اظہار سے ہوا۔ بعد ازاں متاثرہ علاقوں کی مجموعی انسانی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور امدادی و بازآبادکاری کے کاموں کو مزید مو¿ثر بنانے کے لیے تفصیلی تبادلہ? خیال کیا گیا۔

سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے دورے کے بعد قومی کنوینرز ڈاکٹر شاہد اختر اور گریش جویال نے اپنی مفصل رپورٹ کور ٹیم کے سامنے پیش کی۔

ڈاکٹر شاہد اختر نے کہا، آسام میں تباہی کی شدت الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ متعدد بزرگوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں ایسا ہولناک سیلاب کبھی نہیں دیکھا۔ کئی خاندان ایک ہی دن میں اپنے مکانات، زرعی زمینوں اور عمر بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو گئے۔ یہ وقت ہر متاثرہ خاندان کے ساتھ عملی طور پر کھڑے ہونے کا ہے۔

قومی کنوینر ڈاکٹر شالینی علی نے کہا کہ قدرتی آفات میں خواتین، بچے اور بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امدادی کیمپوں میں غذائیت سے بھرپور خوراک، صاف پینے کا پانی، ادویات، صفائی کا سامان اور محفوظ رہائش کی فوری فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے صاحبِ استطاعت افراد سے دل کھول کر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اپیل بھی کی۔

اس موقع پرقومی کنوینر شاہد سعید نے کہا کہ آسام میں پیدا ہونے والا یہ بحران صرف ایک ریاست کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کی مشترکہ انسانی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا، یہ سیاست کا نہیں بلکہ ہمدردی، اخوت اور اجتماعی کوششوں کا وقت ہے۔ مسلم راشٹریہ منچ وزیرِ اعلیٰ ریلیف فنڈ میں مالی تعاون فراہم کرے گا اور ملک کے ہر شہری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق سیلاب متاثرین کی مدد کرے۔ ایسے مشکل حالات میں قومی یکجہتی اور خدمتِ انسانیت ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔

قومی کنوینر محمد افضل نے کہا کہ قدرتی آفات مذہب، ذات، نسل یا برادری کی بنیاد پر کسی میں امتیاز نہیں کرتیں۔انہوں نے کہا، آزمائش کی گھڑی میں انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب ہے۔ مسلم راشٹریہ منچ کا ہر رضاکار بلا امتیاز پوری لگن، اخلاص اور جذب? خدمت کے ساتھ امدادی سرگرمیوں میں شریک رہے گا۔ انہوں نے شہریوں، سماجی اداروں، رفاہی تنظیموں اور رضاکار اداروں سے بھی فعال تعاون کی اپیل کی۔

کور ٹیم نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ مسلم راشٹریہ منچ وزیرِ اعلیٰ آسام کے ریلیف فنڈ میں مالی تعاون فراہم کرے گا اور متاثرہ علاقوں تک براہِ راست امداد پہنچانے کی اپنی مہم کو مزید وسعت دے گا۔ تنظیم کے مطابق اس کے رضاکار مسلسل خوراک، ادویات، ملبوسات اور دیگر ضروری امدادی سامان سیلاب زدہ علاقوں تک پہنچاتے رہیں گے۔

تنظیم نے ملک کے شہریوں، سماجی اداروں، رفاہی تنظیموں، رضاکار گروپوں اور مخیر حضرات سے بھی اپیل کی کہ وہ اس انسانی المیے کے دوران بڑھ چڑھ کر تعاون کریں۔

اجلاس میں ڈاکٹر شاہد اختر اور گریش جویال کی پیش کردہ تفصیلی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کے مطابق متعدد دیہات تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور ہزاروں خاندانوں کو فوری امداد کے ساتھ ساتھ طویل مدتی بازآبادکاری کی بھی ضرورت ہوگی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande