
نئی دہلی، 31 جولائی (ہ س)۔ راجیہ سبھا کی کارروائی جمعہ کو اپوزیشن ارکان کی ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کی وجہ سے دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ ایوان کا اگلا اجلاس پیر، 3 اگست (صبح 11 بجے) کو ہوگا۔
ایوان کا اجلاس ہوتے ہی ضروری کاغذات میز پر رکھے گئے۔ اس کے بعد اپوزیشن ارکان نے اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے کو بولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے بعد میں کھرگے کو بولنے کی اجازت دی، لیکن واضح کیا کہ رول 267 کے تحت دیا گیا کوئی بھی نوٹس قبول نہیں کیا جائے گا۔
اس فیصلے کے بعد اپوزیشن ارکان نے پیپر لیک اور رام مندر میں چڑھاوے کی مبینہ چوری سمیت مختلف مسائل پر نعرے بازی شروع کردی۔ مسلسل ہنگامہ آرائی کے دوران ایوان کی کارروائی ہموار طریقے سے نہیں چل سکی۔
ہنگامہ کے دوران، زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے اپوزیشن پر سخت حملہ کیا، اور ان پر ایوان میں ”سڑک چھاپ سیاست “میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی وزرا ایوان میں موجود ہیں، لیکن اپوزیشن ان کے وقار کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جمہوریت اور آئین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور اپوزیشن صرف انتشار پھیلا کر ہنگامہ کھڑا کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو عوام کی کوئی فکر نہیں ہے اور ملک سب کچھ دیکھ رہا ہے۔
جب اپوزیشن ارکان مسلسل نعرے لگاتے رہے تو چیئرمین نے راجیہ سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کردی۔ ایوان کا اگلا اجلاس 3 اگست کو صبح 11 بجے ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد