
نئی دہلی، 31 جولائی (ہ س )۔
کرناٹک کے مشہور نیلم اور طوطاپوری آم پہلی بار ہوائی راستے کے ذریعے مالدیپ برآمد کیے گئے ہیں۔ اس اقدام سے عالمی منڈی میں ہندوستانی آموں کی موجودگی مزید مضبوط ہوگی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہونے کی توقع ہے۔ مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے اس کامیابی پر زرعی و پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (اے پیڈا) کو مبارکباد دی ہے۔
وزارت تجارت و صنعت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، 30 جولائی کو ہونے والی اس برآمد میں اے پیڈا نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ برآمد عالمی منڈی میں کرناٹک کی دیر سے پکنے والی آم کی اقسام کو فروغ دینے اور ہندوستان کی آم برآمدی ذخیرے کو مزید مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم کامیابی ہے۔
مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ پر جاری ایک پوسٹ میں کرناٹک سے مالدیپ تک نیلم اور طوطاپوری آموں کی پہلی فضائی کھیپ روانہ کیے جانے پر اے پیڈا کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ اب مالدیپ کے عوام بھی کرناٹک کے ان اعلیٰ معیار کے آموں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کرناٹک کے آم پیدا کرنے والے کسانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی اور کسان پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی اوز)، برآمد کنندگان اور زرعی کاروباری افراد کی عالمی منڈی میں شمولیت کو مزید فروغ دے گی۔
وزارت نے بتایا کہ ایک میٹرک ٹن پر مشتمل اس کھیپ کے آم براہِ راست کرناٹک کے ضلع کولار کے کے جی ایف تعلقہ میں واقع پرکرتی مایا فارمرس پروڈیوسر کمپنی لمیٹڈ سے وابستہ کسانوں سے حاصل کیے گئے۔ اس کھیپ کی برآمد اہلیہ دیوی وینچرز کی ڈائریکٹر اشونی اے نے کی، جو ایک نئی رجسٹرڈ خاتون برآمد کنندہ اور کاروباری شخصیت ہیں۔
وزارت تجارت و صنعت نے کہا کہ یہ کامیابی ہندوستان کے زرعی برآمدی نظام میں خواتین کاروباری شخصیات کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی عکاسی کرتی ہے۔ آموں کی اس کھیپ کو اے پیڈا کے چیئرمین ابھیشیک دیو (آئی اے ایس) نے جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ انہوں نے اس کامیابی کو ممکن بنانے میں برآمد کنندگان، فارمر پروڈیوسر کمپنی (ایف پی سی)، کسانوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کی مشترکہ کوششوں کو سراہا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ