
نئی دہلی، 31 جولائی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی فسادات کی سازش کی منصوبہ بندی کرنے کے ملزم عمر خالد کی ضمانت عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ جسٹس پرتبھا سنگھ کی سربراہی والی بنچ نے عمر خالد کی ضمانت عرضی کو اس معاملے کے شریک ملزم شرجیل امام کی ضمانت عرضی کے ساتھ ٹیگ کر دیا اور 27 اگست کو اگلی سماعت کا حکم دیا۔
اس سے قبل 4 جولائی کو کڑکڑڈوما کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی نئی ضمانت عرضی کو مسترد کر دیا تھا۔ ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپئی نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے 5 جنوری کے حکم پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ کڑکڑڈوما عدالت نے کہا تھا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت عرضیاں ٹرائل کورٹ میں بھی قابل سماعت نہیں ہیں۔
سماعت کے دوران عمر خالد کی جانب سے پیش ہوئے وکیل تردیپ پیس نے دلیل دی کہ سپریم کورٹ نے اندرابی معاملے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستوں کو خارج کرنے پر سوال اٹھایا تھا۔ انہوں نے سپریم کو رٹ کا وہ حکم جس میں گواہوں کے بیان درج نہیں ہونے کی صورتحال میں ایک سال بعد ضمانت عرضی داخل کرنے کو کہا تھا، اس کا اب اطلاق نہیں ہوتا۔
اس سے قبل 5 جنوری کو سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔ 5 جنوری کو جن 5 ملزمان کی ضمانت منظور ہوئی تھی ان میں گلفشہ فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، شاداب احمد اور محمد سلیم خان شامل ہیں۔
22 مئی کو سپریم کورٹ نے ملزمان خالد سیفی اور تسلیم احمد کی 6 ماہ کے لیے عبوری ضمانت منظور کی تھی۔ اس کیس کے چار دیگر ملزمین کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔ جن لوگوں کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے، ان میں صفورا زرگر، آصف اقبال تنہا، دیوانگن کلیتا اور نتاشا نروال شامل ہیں۔
یواے پی اے کے تحت درج اس معاملے میں 18 ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ ان میں جن افراد کو ملزم بنایا گیا ہے ، ان میں صفورا زرگر، طاہر حسین، عمر خالد، خالد سیفی، عشرت جہاں، میران حیدر، گلفشہ، شفا الرحمان، آصف اقبال تنہا، شاداب احمد، تسلیم احمد، سلیم ملک، محمد سلیم خان، اطہر خان، شرجیل امام، فیضان خان، نتاشانروال اور دیوانگن کلیتا شامل ہیں۔
واضح ہو کہ دہلی فسادات میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد