
نئی دہلی، 31 جولائی (ہ س)۔ ہریانہ اور آندھرا پردیش میں 15 جون سے 24 جولائی تک ایک خصوصی جامع نظر ثانی (ایس آئی آر) مہم کا انعقاد کیا گیا۔ دونوں ریاستوں کے چیف الیکٹورل افسروں نے جمعہ کو ووٹروں کی تصدیق کے اہم اعدادوشمار شیئر کئے۔ اعداد و شمار کے مطابق، ہریانہ میں 33.83 لاکھ اور آندھرا پردیش میں 44.89 لاکھ ووٹرز (یعنی بالترتیب 16.39 فیصد اور 10.88 فیصد ) کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ انہیں ہٹانے کی وجوہات میں موت، مستقل منتقلی، غیر حاضری اور متعدد مقامات پر رجسٹریشن شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ہریانہ میں کل 1.727 کروڑ (83.61فیصد) ووٹروں سے گنتی کے فارم موصول ہوئے ہیں۔ 24.13 لاکھ (11.68فیصد) ووٹرز کی مستقل منتقلی، غیر حاضری یا دیگر وجوہات کی وجہ سے تصدیق مکمل نہیں ہو سکی۔ 7.66 لاکھ (3.71فیصد) ووٹرز کی موت سے متعلق معلومات موصول ہوئیں، جبکہ 2.04 لاکھ (0.99فیصد) ووٹرز ایک سے زیادہ مقامات کی انتخابی فہرستوں میں رجسٹرڈ پائے گئے۔ اس دوران ، آندھرا پردیش میں، 3.71 کروڑ (89.22 فیصد) ووٹروں نے اپنے تصدیقی فارم جمع کرائے ہیں۔ 15.22 لاکھ (3.66 فیصد) ووٹرز کی موت کی تصدیق کی گئی۔ مزید 22.30 لاکھ (5.35 فیصد) ووٹرز مستقل طور پر نقل مکانی کر گئے، غیر حاضر یا دیگر زمروں میں آ گئے۔ مزید، 7.37 لاکھ (1.77 فیصد) ووٹروں کے نام ایک سے زیادہ مقامات پر رجسٹرڈ پائے گئے۔
الیکشن حکام نے واضح کیا کہ جن ووٹرز کے فارم موصول نہیں ہوئے ان کا نام ووٹر لسٹ سے نہیں نکالا جائے گا۔ اس طرح کے معاملات کی وجوہات میں فرد کا کسی دوسری ریاست میں ووٹر بننا، مقررہ مدت کے اندر فارم جمع کرانے میں ناکامی، رجسٹرڈ پتے پر عدم دستیابی، یا دیگر وجوہات کی بناءپر اندراج نہ کرنے کا فیصلہ شامل ہوسکتا ہے۔
کمیشن نے کہا کہ 31 جولائی سے 30 اگست تک جاری رہنے والے دعوو¿ں اور اعتراضات کی مدت کے دوران حقیقی طور پر اہل ووٹر مقررہ اعلامیہ کے ساتھ فارم 6 جمع کر کے انتخابی فہرست میں اپنا نام شامل کروا سکتے ہیں۔وہیں، جن ووٹروں کے نام متعدد مقامات پر ظاہر ہوں گے، ان کا نام صرف ایک حلقے کی انتخابی فہرست میں رکھا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی