
نئی دہلی، 31 جولائی (ہ س)۔
دہلی کی کڑکڑڈوما کورٹ نے 2020 میں دہلی فسادات کے دوران آئی بی افسر انکت شرما کے قتل کے معاملے میں طاہر حسین سمیت پانچ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ ایڈیشنل سیشنز جج پروین سنگھ نے اس معاملے کے چھ ملزموں کو بری کرنے کا بھی حکم دیا۔ کورٹ نے دہلی پولیس کے اس دلائل کو خارج کر دیا کہ مجرموں کو پھانسی کی سزا دی جائے۔ کورٹ نے کہا کہ مجرموں میں سدھار کی گنجائش ہے۔
کورٹ نے 13 جولائی کو اس معاملے میں ناظم، قاسم، انس اور جاوید کو مجرم قرار دیا تھا۔ اس کے علاوہ حسین عرف ملا جی عرف سلمان، میر خان، فیروز، جاوید، گلفام، شعیب عالم عرف بوبی اور منتظم عرف موسیٰ کو بری کرنے کا حکم دیا ہے۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے 3 جون 2020 کو اس معاملے میں چارج شیٹ دائر کی تھی۔ کرائم برانچ کی چارج شیٹ میں کہا گیا کہ 24 اور 25 فروری 2020 کو طاہر حسین نے اپنے گھر اور چاند باغ پلیا کے پاس مسجد سے ہجوم کی قیادت کی اور اسے فرقہ وارانہ رنگ دیا۔ چارج شیٹ میں کہا گیا تھا کہ انکت شرما کے قتل کے لیے سازش رچی گئی تھی۔ انکت شرما کو طاہر حسین کی قیادت میں ہجوم نے خاص طور پر نشانہ بنایا۔ کھجوری خاص علاقے میں طاہر حسین کے گھر کے باہر حادثہ پیش آیا۔ شرما کے قتل کے بعد ہجوم نے ایک نالے میں لاش پھینک دی۔
پولیس کے مطابق انکت شرما کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ڈاکٹروں نے پایا تھا کہ تیز دھار والے ہتھیار سے 51 وار کے نشانات ہیں۔ طاہر نے ہی چاند باغ علاقے میں ہجوم کو اکسایا۔ چارج شیٹ میں طاہر حسین کو ماسٹر مائنڈ بتایا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے انکت کے والد کے بیان پر طاہر حسین کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ طاہر حسین کے خلاف بھارتیہ ڈنڈ سنہیتا کی دفعہ 302، 365، 201 اور دفعہ 34 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس کی چھت سے کافی مقدار میں تشدد میں استعمال کیا گیا سامان برآمد کیا گیا۔ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات میں 53 افراد مارے گئے تھے اور تقریباً 200 افراد زخمی ہو گئے تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن