
سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بھوج شالہ سے متصل جگہ پر جمعہ کی نماز ادا کرائی گئی، بھوج شالہ میں پوجا ارچنا ہوئی
دھار، 31 جولائی (ہ س)۔ سپریم کورٹ کی جانب سے مسلم فریق کو بھوج شالہ سے متصل درگاہ کے قریب زمین دیے جانے کے حکم کے بعد جمعہ کو مدھیہ پردیش کے دھار میں ضلع انتظامیہ کی جانب سے خسرہ نمبر 612 پر دوپہر 1.00 سے 3.00 بجے تک جمعہ کی نماز ادا کرائی گئی۔ جہاں تقریباً 150 نمازیوں نے جمعہ کی نماز ادا کی۔ اس دوران انتظامیہ نے سیکورٹی کے وسیع انتظامات کیے تھے۔
وہیں بھوج شالہ میں بھی بڑی تعداد میں ہندو برادری کے لوگوں نے پوجا ارچنا کر کے آرتی میں حصہ لیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب نماز ہو رہی تھی، اسی دوران بھوج شالہ سے ماں سرسوتی اور راجہ بھوج کے جے گھوش اور گھنٹی و شنکھ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
اس سے پہلے صبح یہاں نماز کے خلاف بھوج شالہ احاطے کی باونڈری وال سے متصل خسرہ نمبر 611 اور 612 میں واقع زمین پر وکرم نگر کے مقامی رہائشیوں نے اعتراض درج کرایا۔ انہوں نے کہا کہ جس جگہ نماز کی اجازت دی گئی ہے وہ نجی آبائی زمین ہے۔ ہم طویل عرصے سے یہاں کھیتی باڑی کرتے آ رہے ہیں، ہم یہاں نماز نہیں ہونے دیں گے۔ اگر ضرورت پڑی تو اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے۔
موقع پر موجود ایس ڈی ایم راج کمار ہلدر نے کہا کہ ان کی بات سنی جائے گی، جس کے بعد اعتراض کرنے والے پرسکون ہوئے۔ اس سلسلے میں مقامی رہائشیوں نے تحصیلدار دینیش اوئیکے کو کلکٹر کے نام میمورنڈم بھی پیش کیا۔ مقامی رہائشی چندرکانت دیوڑا نے کہا کہ یہ ہمارے خاندان کے تین لوگوں کی نجی زمین ہے، اس سے ہمارا گھر چلتا ہے۔ وہیں رادھا بائی نے کہا کہ یہ ہمارے والد اور بھائیوں کی زمین ہے، چار نسلوں سے ہمارے پاس ہے۔ مقامی رہائشی پشپا وجوا نے کہا کہ یہ ہمارے والد اور دادا کی زمین ہے، ہم کیوں نماز پڑھنے دیں، ہم یہاں سے ہٹیں گے ہی نہیں، ہمیں اس بارے میں کوئی اطلاع بھی نہیں دی گئی تھی۔
مسجد کمال مولا ویلفیئر سوسائٹی کے نمائندے عبد الصمد نے کہا کہ خسرہ نمبر 611 اور 612 کی زمین سے کمال مولا مسجد براہِ راست دکھائی دیتی ہے، اس لیے ہم یہاں نماز پڑھنے کے لیے راضی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے جمعہ تک اگر عدالت کا کوئی نیا عبوری یا حتمی فیصلہ آتا ہے تو ہم اور انتظامیہ دونوں اس پر عمل کریں گے۔
ایس ڈی ایم راج کمار ہلدر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کیا گیا ہے۔ خسرہ نمبر 612 کی زمین پر مسلم برادری کی جانب سے تقریباً 150 کی تعداد میں نماز ادا کی گئی۔ انہوں نے اس زمین کو نجی زمین نہ بتاتے ہوئے سرکاری زمین بتایا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن