بستر کے 461 سابق نکسل متاثرہ دیہات تک بجلی پہنچانے کی پہل، مرکز سے خصوصی مالی مدد کی اپیل
نئی دہلی، 31 جولائی (ہ س)۔ چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ وشنو دیو سائے نے جمعہ کو مرکزی وزیر برائے قبائلی امور جویل اورام سے ملاقات کر کے دھرتی آبا گرام اتکرش یوجنا کے تحت بستر ڈویژن کے سات اضلاع کے 461 دور افتادہ اور سابق نکسل متاثرہ دیہات تک گرڈ بجلی
بستر کے 461 سابق نکسل متاثرہ دیہات تک بجلی پہنچانے کی پہل، مرکز سے خصوصی مالی مدد کی اپیل


نئی دہلی، 31 جولائی (ہ س)۔

چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ وشنو دیو سائے نے جمعہ کو مرکزی وزیر برائے قبائلی امور جویل اورام سے ملاقات کر کے دھرتی آبا گرام اتکرش یوجنا کے تحت بستر ڈویژن کے سات اضلاع کے 461 دور افتادہ اور سابق نکسل متاثرہ دیہات تک گرڈ بجلی پہنچانے کے لیے مرکزی حکومت سے 435 کروڑ روپے کی خصوصی مالی امداد کی درخواست کی۔

وزیراعلیٰ سائے نے اس سلسلے میں ایک تفصیلی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ جن دیہات میں برسوں تک نکسل تشدد کے باعث ترقی نہیں پہنچ سکی، وہاں اب بجلی جیسی بنیادی سہولت فراہم کرنا ریاستی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیراعلیٰ نے میڈیا کو بتایا کہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 973 کروڑ روپے ہے۔ اس کے لیے تین مالی برسوں کے دوران مرکزی حکومت سے مالی امداد طلب کی گئی ہے۔ مالی سال 2026-27 میں 85 کروڑ روپے، 2027-28 میں 250 کروڑ روپے اور 2028-29 میں 100 کروڑ روپے، یعنی مجموعی طور پر 435 کروڑ روپے مرکز سے مانگے گئے ہیں، جبکہ باقی رقم ریاستی حکومت برداشت کرے گی۔

وزیراعلیٰ سائے نے مرکزی وزیر سے درخواست کی کہ آئین کے آرٹیکل 275(1) کے تحت اس تجویز کو خصوصی معاملہ تصور کرتے ہوئے جلد منظوری دی جائے تاکہ بستر کے دور دراز دیہات بھی ترقی کی مرکزی دھارے سے جڑ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی فراہمی سے قبائلی خاندانوں کی زندگی میں نمایاں تبدیلی آئے گی اور تعلیم، صحت، روزگار اور چھوٹے صنعتوں کو نئی رفتار ملے گی۔

مرکزی وزیر برائے قبائلی امور جویل اورام نے یقین دہانی کرائی کہ دھرتی آبا گرام اتکرش یوجنا کے تحت تجویز موصول ہوتے ہی منظوری کا عمل فوری طور پر شروع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے فنڈز کی کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی جائے گی اور مرکزی حکومت بستر کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بستر اب ترقی، اعتماد اور نئی امکانات کی علامت بنتا جا رہا ہے اور ان 461 دیہات تک بجلی کی فراہمی اسی تبدیلی کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande