
نئی دہلی، 31 جولائی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے مشہور شردھا قتل کیس کا ٹرائل مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے کا مطالبہ کرنے والی عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ٹرائل کی پہلے سے ہی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو رہی ہے۔ ایسے میں اس سے متعلق کوئی حکم دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
سماعت کے دوران عرضی گزار کی طرف سے پیش ہوئی وکیل سیما کشواہا نے کہا کہ جس طرح سے ابھی ٹرائل چل رہا ہے، ایسے میں ٹرائل ختم ہونے میں 3-2 سال تک لگ جائیں گے۔ دہلی پولیس کی جانب سے گواہوں کے بیانات قلمبند کرائے جا رہے ہیں۔ ساکیت کورٹ نے 9 مئی 2023 کو اس معاملے کے ملزم آفتاب کے خلاف قتل کا الزام طے کر دیا تھا۔ کورٹ نے آفتاب پر بھارتیہ ڈنڈ سنہیتا کی دفعہ 302 (قتل) اور 201 (ثبوت مٹانے) کے تحت الزامات طے کیے تھے۔ دہلی پولیس نے کورٹ کو بتایا تھا کہ آفتاب نے سوچ سمجھ کر اس واقعہ کو انجام دیا ہے۔
دہلی پولیس نے کہا تھا کہ حالات و واقعات کے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ شرادھا اور آفتاب کا لیو ان ریلیشن پرتشدد تھا۔ دہلی پولیس نے کورٹ کو بتایا تھا کہ شرادھا ’پریکٹو ایپ‘ کے ذریعے ڈاکٹروں سے مشورہ بھی لے رہی تھی۔ دہلی پولیس نے کورٹ میں شرادھا کی کونسلنگ کی ویڈیو پلے کر کے دکھائی تھی، جس میں شردھا کہہ رہی ہے کہ آفتاب اس کو ڈھونڈ لے گا اور مار دے گا۔ دہلی پولیس نے کہا تھا کہ شردھا اور آفتاب کا لیو ان ریلیشن پرتشدد تھا۔ اتنا ہی نہیں، شردھا نے الزام بھی لگایا تھا کہ آفتاب اس کو مارتا اور گالی دیتا تھا۔ شردھا کو مار کر ٹکڑوں میں کاٹنے کی بھی دھمکی دیتا تھا اور تو اور آفتاب نے اسے مارنے کی بھی کوشش کی تھی۔ دہلی پولیس نے کہا تھا کہ تفتیش کے دوران پولیس کو شرادھا کی ہڈی، جبڑا اور خون کے نشانات ملے۔ شرادھا کے خون کے نشانات فریج اور کمرے کی الماری پر لگے ہوئے ملے۔
ساکیت کورٹ نے 7 فروری 2023 کو دہلی پولیس کی جانب سے دائر چارج شیٹ پر نوٹس لے لیا تھا۔ دہلی پولیس نے 24 جنوری 2023 کو 6,629 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ دائر کی تھی۔ چارج شیٹ میں آفتاب کو واحد ملزم بنایا گیا ہے۔ چارج شیٹ میں تقریباً 100 گواہوں کے علاوہ فورنسک اور الیکٹرانک شواہد کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ آفتاب نے شردھا کا قتل کر کے تقریباً 30 ٹکڑے کر دیے تھے۔ اس کی لاش کے ٹکڑوں کو فریج میں رکھا ہوا تھا۔ وہ لاش کے اعضاء کو الگ الگ مقامات پر لے جا کر پھینکتا تھا۔ بعد میں پولیس نے آفتاب کی نشاندہی پر شردھا کے کئی اعضاء برآمد کیے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن