ہماچل میں بم دھماکوں کی دھمکی، وزیراعلیٰ دفتر، فوجی مراکز اور اسکولوں کا ذکر، سکیورٹی ایجنسیاں الرٹ
شملہ، 31 جولائی (ہ س)، ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ دفتر، فوج سے متعلق تنصیبات اور اسکولوں کا ذکر کرتے ہوئے بھیجی گئی ایک دھمکی آمیز ای میل کے بعد پولیس اور سکیورٹی ایجنسیاں الرٹ ہو گئی ہیں۔ ای میل میں 15 اگست کے موقع پر بم دھماکوں کی دھمکی دی گئی ہے
ہماچل میں بم دھماکوں کی دھمکی، وزیراعلیٰ دفتر، فوجی مراکز اور اسکولوں کا ذکر، سکیورٹی ایجنسیاں الرٹ


شملہ، 31 جولائی (ہ س)،

ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ دفتر، فوج سے متعلق تنصیبات اور اسکولوں کا ذکر کرتے ہوئے بھیجی گئی ایک دھمکی آمیز ای میل کے بعد پولیس اور سکیورٹی ایجنسیاں الرٹ ہو گئی ہیں۔ ای میل میں 15 اگست کے موقع پر بم دھماکوں کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس میں وزیراعلیٰ دفتر کے علاوہ آرمی اسٹیشن، کینٹ علاقہ اور فوج سے وابستہ اسکولوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ای میل بھیجنے والے کے سراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ ای میل 29 جولائی کو بھیجی گئی تھی۔ اس میں وزیراعلیٰ دفتر، آرمی اسٹیشن، کینٹ علاقہ اور فوج سے متعلق اسکولوں کا نام درج ہے۔ ای میل میں خالصتان حامی اور اشتعال انگیز مواد بھی شامل تھا۔

دھمکی آمیز ای میل میں جون 1984، نومبر 1984 اور 1996 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے 15 اگست کو ”بدلہ“ لینے کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس میں 15 اگست 2026 تک فوجی اہلکاروں کو اپنے خاندانوں کو محفوظ رکھنے اور کینٹ علاقہ چھوڑنے کا بھی کہا گیا ہے۔

دھمکی موصول ہونے کے بعد پولیس اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں نے تکنیکی جانچ شروع کر دی ہے۔ سائبر ماہرین ای میل کے ماخذ، بھیجنے والے شخص اور استعمال کیے گئے نیٹ ورک کی معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ جن مقامات کا ای میل میں ذکر کیا گیا ہے وہاں بھی سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

شملہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) گورو سنگھ نے جمعہ کو بتایا کہ 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر راجدھانی شملہ میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سرگرمی پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ دھمکی آمیز ای میل کے ماخذ کی بھی جانچ جاری ہے اور تحقیقات میں سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande