بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملہ میں پہلی گولی چلانے والے ایس ٹی ایف افسر اکشے کمار گرفتار
پٹنہ، 31 جولائی (ہ س)۔ بہار میں بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملہ کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ خصوصی تفتیشی ٹیم نے جمعہ کے روز بہار اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے افسر اکشے کمار کو گرفتار کیا۔ یہ کارروائی آرہ پولیس اور ایس ٹی ایف کی مش
بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملہ میں پہلی گولی چلانے والے ایس ٹی ایف افسر اکشے کمار گرفتار


پٹنہ، 31 جولائی (ہ س)۔ بہار میں بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملہ کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ خصوصی تفتیشی ٹیم نے جمعہ کے روز بہار اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے افسر اکشے کمار کو گرفتار کیا۔ یہ کارروائی آرہ پولیس اور ایس ٹی ایف کی مشترکہ ٹیم نے کی۔ آرہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) راج نے گرفتاری کی تصدیق کی۔تفتیشی ایجنسیوں کے مطابق یہ اب تک کی تفتیش میں سب سے اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتاری سائنسی شواہد، ویڈیو فوٹیج اور عینی شاہدین کے بیانات کی بنیاد پر کی گئی۔ تفتیشی ٹیم ان تمام شواہد کو اکٹھا کر رہی ہے تاکہ واقعات کی ترتیب کا تعین کیا جا سکے۔

تحقیقات سے متعلق ویڈیو شواہد کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھرت تیواری نے واقعہ کے دن مبینہ طور پر پولیس اور ایس ٹی ایف ٹیم کے سامنے خودسپردگی کی۔ الزام ہے کہ اس کے باوجود ایس ٹی ایف افسر اکشے کمار نے پہلی گولی چلائی۔ پہلی گولی لگنے کے بعد بھرت تیواری زمین پر گر گئے اور اس کے بعد انہیں مزید تین گولی ماری گئی جس سے موقع پر ہی موت ہوگئی ۔ تاہم ان الزامات کی تصدیق کا انحصار عدالتی عمل اور تحقیقات کے نتائج پر ہوگا۔اگر یہ الزامات درست ثابت ہو تے ہیں تو یہ مقدمہ فرضی انکاؤنٹر اور قتل جیسے سنگین الزامات میں بڑھ سکتا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیاں اس وقت تمام دستیاب شواہد اور متعلقہ حکام کے بیانات کی بنیاد پر تفصیلی تحقیقات کر رہی ہیں۔

اس معاملے میں کارروائی نے اس وقت زور پکڑا جب بھرت تیواری کے اہل خانہ نے 24 جولائی کو پٹنہ میں وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری سے ملاقات کی اور منصفانہ تحقیقات اور مجرموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے اہل خانہ کو منصفانہ تحقیقات اور ضروری کارروائی کی یقین دہانی کرائی جس سے تفتیشی عمل میں تیزی آئی۔

ایس ٹی ایف کانسٹیبل اکشے کمار کی گرفتاری کے بعد متوفی کے اہل خانہ نے اسے انصاف کی طرف ایک اہم پہلا قدم قرار دیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے کہا کہ صرف ایک کانسٹیبل کی گرفتاری کافی نہیں ہے۔ اہل خانہ نے انکاؤنٹر میں ملوث دیگر پولیس افسران اور اہلکاروں کے کردار کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے سخت کارروائی کی جائے۔قابل ذکر ہے کہ اس معاملے میں اس وقت کے ایس ڈی ایم سنجیت کمار کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ اس وقت کے ایس ڈی پی او راجیش کمار شرما کو بھی لائن پر رکھا گیا ہے۔ ان انتظامی اقدامات کے بعد یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ تفتیشی ایجنسیاں پولیس ٹیم کے دیگر ارکان کے کردار کی چھان بین کر کے مزید کارروائی کر سکتی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande