
نئی دہلی، 31 جولائی(ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی دہلی یونٹ کے ترجمان اور سابق رکن اسمبلی نتن تیاگی نے دہلی کینٹ سے عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی وریندرقادیان اور ان کے بیٹے انکت قادیان پر ایک خاتون پھول فروش کے ساتھ مبینہ مارپیٹ اور ہراسانی کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
نتن تیاگی نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی کے عملے نے خاتون کے اسٹال سے پھولوں کا ایک گلدستہ منگوایا، لیکن اس کی قیمت ادا نہیں کی۔ ان کا الزام تھا کہ جب خاتون نے اپنے پیسوں کا مطالبہ کیا تو دہلی کینٹ بورڈ کے حکام کے ذریعے اس کا پھولوں کا اسٹال ہٹوا دیا گیا۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ جب متاثرہ خاتون شکایت لے کر رکن اسمبلی کی رہائش گاہ پہنچی تو وہاں وریندر قادیان کے بیٹے انکت قادیان اور ان کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر خاتون کے ساتھ مارپیٹ کی۔ نتن تیاگی کے مطابق اس وقت خاتون کا دو سالہ بچہ بھی اس کے ساتھ موجود تھا۔
بی جے پی رہنما نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پولیس نے کئی دنوں تک اس معاملے میں ایف آئی آر درج نہیں کی، تاہم مقامی بی جے پی کارکنوں کے دباؤ کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہفتہ کی صبح قرول باغ بی جے پی کا ایک وفد جنوب مغربی دہلی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) سے ملاقات کرے گا اور رکن اسمبلی وریندر قادیان اور ان کے بیٹے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کرے گا۔
نتن تیاگی نے عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال سے بھی سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو پارٹی متعلقہ رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی کب کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan