سی جے پی مظاہروں کے دوران زخمی پولیس اہلکاروں کے اہلِ خانہ نے سنائی آپ بیتی
نئی دہلی، 31 جولائی (ہ س)۔ دہلی پولیس کے زخمی اہلکاروں کے اہلِ خانہ نے جمعہ کو کانسٹی ٹیوشن کلب میں پریس کانفرنس کرکے 20 اور 25 جولائی کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور ”سنسد چلو“ مارچ کے دوران پولیس پر ہونے والے مبینہ پرتشدد حملوں کی تفصیلات ب
سی جے پی مظاہروں کے دوران زخمی پولیس اہلکاروں کے اہلِ خانہ نے سنائی آپ بیتی


نئی دہلی، 31 جولائی (ہ س)۔

دہلی پولیس کے زخمی اہلکاروں کے اہلِ خانہ نے جمعہ کو کانسٹی ٹیوشن کلب میں پریس کانفرنس کرکے 20 اور 25 جولائی کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور ”سنسد چلو“ مارچ کے دوران پولیس پر ہونے والے مبینہ پرتشدد حملوں کی تفصیلات بیان کیں۔ ایک سب انسپکٹر کی بیٹی نے بتایا کہ کس طرح شرپسند عناصر نے طلبہ کا ساتھ دیتے ہوئے ان کے والد کو بیریکیڈ سے کھینچ لیا اور انہیں گھنٹوں بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ دیا۔ ایک اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس کی اہلیہ نے کہا کہ ان کے شوہر کا زخمی حالت میں گھر واپس آنا ان کے اور ان کی دو سالہ بیٹی کے لیے ایک انتہائی دردناک رات تھی، جبکہ ایک اور خاتون نے بتایا کہ ان کے شوہر کا ہیلمٹ پتھروں اور گملوں سے حملہ کرکے تباہ کر دیا گیا۔

دہلی میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ میں زخمی ہونے والے دہلی پولیس کے ایک سب انسپکٹر کی بیٹی نے کہا، ”25 جولائی کو میرے والد کو شرپسندوں کے ایک ہجوم نے بیریکیڈ سے کھینچ لیا اور جنتر منتر پر اسٹیج کے قریب انہیں بری طرح مارا پیٹا گیا۔ یہ واقعہ دوپہر تقریباً دو بجے پیش آیا۔ وہ تقریباً چار گھنٹے تک رام منوہر لوہیا (آر ایم ایل) اسپتال میں بے ہوش رہے۔ رات تقریباً دس بجے ان کے ساتھی انہیں گھر لے کر آئے۔ ان کی پوری وردی خون سے لت پت تھی۔ انہیں اس حالت میں دیکھنا ہمارے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔“

انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے کے بعد خاندان نے اپنے والد کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں انہیں دیگر پولیس اہلکاروں کے اہلِ خانہ کی حمایت حاصل ہوئی اور وہ سپریم کورٹ گئے۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں اپنا موقف پیش کرنے کے لیے ایک وکیل سے رجوع کیا، جس نے انہیں یقین دلایا کہ ملک کے شہری ہونے کے ناطے انہیں بھی مساوی حقوق حاصل ہیں اور انہیں بھی انصاف ملے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande