جرسی کے بھگوا رنگ پر ہاکی انڈیا کی وضاحت، کہا- کھلاڑیوں اور کوچ کے تکنیکی مشورے کے بعد کیا گیا فیصلہ
نئی دہلی، 30 جولائی (ہ س)۔ ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ کے لیے بھارتی ہاکی ٹیموں کی نئی بھگوا (زعفرانی) جرسی کو لے کر اٹھنے والے سوالات کے درمیان ہاکی انڈیا نے جمعرات کو ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جرسی کے رنگ میں تبدیلی کھلاڑیوں اور
جرسی کے بھگوا رنگ پر ہاکی انڈیا کی وضاحت، کہا- کھلاڑیوں اور کوچ کے تکنیکی مشورے کے بعد کیا گیا فیصلہ


نئی دہلی، 30 جولائی (ہ س)۔ ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ کے لیے بھارتی ہاکی ٹیموں کی نئی بھگوا (زعفرانی) جرسی کو لے کر اٹھنے والے سوالات کے درمیان ہاکی انڈیا نے جمعرات کو ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جرسی کے رنگ میں تبدیلی کھلاڑیوں اور معاون عملے کی سفارشات اور تفصیلی غور و خوض کے بعد کی گئی ہے۔ ادارے نے کہا کہ اس فیصلے کی بنیادی وجہ تکنیکی ضرورت تھی، نہ کہ کوئی اور وجہ۔

ہاکی انڈیا کے مطابق کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف نے محسوس کیا کہ روایتی نیلی جرسی بین الاقوامی ہاکی میں استعمال ہونے والے نیلے مصنوعی ٹرف کے ساتھ کافی حد تک گھل مل جاتی ہے۔ اس وجہ سے کھلاڑیوں کو میدان میں ایک دوسرے کو پہچاننے میں دشواری پیش آتی تھی۔ اسی لیے کھلاڑیوں اور کوچز نے پیلے یا زعفرانی رنگ جیسے متبادل رنگوں کی تجویز پیش کی تھی۔

بیان میں کہا گیا کہ تمام تجاویز پر غور کرنے کے بعد زعفرانی رنگ کو حتمی شکل دی گئی۔ یہ رنگ نہ صرف تکنیکی اعتبار سے موزوں ہے بلکہ بھارتی قومی پرچم کے تین رنگوں میں سے ایک ہونے کی وجہ سے ہمت، قربانی اور قومی فخر کی علامت بھی ہے۔

ہاکی انڈیا نے واضح کیا کہ قومی ٹیم کی جرسی کے رنگ میں تبدیلی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وقتاً فوقتاً عملی اور تکنیکی ضروریات کے مطابق ٹیم کی جرسی میں تبدیلیاں کی جاتی رہی ہیں۔ مثال کے طور پر 2014 کے ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ کے دوران بھارتی ٹیم نے پیلے رنگ کی جرسی پہنی تھی، جبکہ 2018 کے ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ میں ٹیم کی جرسی کا رنگ آسمانی نیلا رکھا گیا تھا اور اس کا ڈیزائن بھی مکمل طور پر تبدیل کیا گیا تھا۔

ہاکی انڈیا نے اپنے بیان کے اختتام پر دہرایا کہ موجودہ زعفرانی جرسی کا فیصلہ مکمل طور پر کھلاڑیوں اور کوچز سے ملنے والے تکنیکی فیڈبیک اور قومی پرچم سے جڑے اس رنگ کی علامتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اس سے کھلاڑیوں کو میدان میں بہتر نظر آنے میں مدد ملے گی اور ٹیم کی کارکردگی میں بھی مثبت اثر پڑنے کی امید ہے۔

سابق بھارتی کپتان اور اولمپک گولڈ کویسٹ کے چیف ایگزیکٹو افسر ویرن راسکینہا نے بھگوا رنگ پر اعتراض ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا، مجھے کہنا ہوگا کہ ہاکی انڈیا نے کئی اچھے کام کیے ہیں، لیکن یہ فیصلہ شرمناک ہے۔ بھارتی ٹیم کی شناخت اور وراثت ہمیشہ سے نیلا رنگ رہی ہے۔ میں نے کئی سالوں تک فخر کے ساتھ نیلی جرسی پہنی ہے۔ شائقین بھی بھارتی ٹیم کو نیلے رنگ میں ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ بھگوا (زعفرانی) رنگ کا کیا جواز ہے؟

قابل ذکر ہے کہ اگلے ماہ نیدرلینڈز اور بیلجیم میں ہونے والے ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 میں بھارتی مرد اور خواتین ہاکی ٹیمیں پہلی بار اپنی روایتی نیلی جرسی کے بجائے زعفرانی رنگ کی نئی کٹ میں میدان میں اتریں گی۔ جرسی کے رنگ میں اس تبدیلی کو جہاں ہاکی انڈیا تکنیکی اور عملی فیصلہ قرار دے رہا ہے، وہیں کھیلوں کی دنیا کے کچھ سابق کھلاڑی اسے ایک مختلف شناخت سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ ورلڈ کپ سے عین پہلے اس معاملے نے بھارتی ہاکی میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande