
بھوج شالہ سے متصل درگاہ میں عارضی طور پر جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت
نئی دہلی، 30 جولائی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے دھار کے بھوج شالہ احاطے سے متصل درگاہ کی زمین پر مسلم برادری کے لوگوں کو عارضی طور پر جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ نے مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی کہ وہ عدالت کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ضروری انتظامات کرے۔
سپریم کورٹ نے خسرہ نمبر 596 کی زمین کو مسلم برادری کے لیے نماز کی ادائیگی کی خاطر منتخب کیا ہے۔ یہ زمین بھوج شالہ سے متصل درگاہ کی زمین بتائی گئی ہے۔
مسلم فریق نے عرضی دائر کر کے مطالبہ کیا تھا کہ اسے نماز پڑھنے کے لیے بھوج شالہ سے متصل جگہ الاٹ کی جائے۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ ضلع انتظامیہ نے فی الحال جس زمین کا انتظام کیا ہے، وہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے برعکس متنازعہ مذہبی یادگار سے تقریباً ایک کلومیٹر دور ہے۔ جس کی وجہ سے نمازیوں کو جمعہ کی نماز وہاں جا کر پڑھنی پڑتی ہے۔
سپریم کورٹ نے 14 جولائی کو کہا تھا کہ بھوج شالہ احاطے کے اندر مسلم برادری کو نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا دیا تھا۔ مسلم فریق چاہتا تھا کہ ہائی کورٹ کے حکم سے پہلے کی صورتِ حال بحال کر دی جائے، لیکن سپریم کورٹ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ بھوج شالہ احاطے کے قریب ایک جگہ ہر جمعہ کو نماز پڑھنے کے لیے دی جائے۔ نماز ہر جمعہ کو دوپہر 1 بجے سے 3 بجے کے درمیان ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن