پیپر لیک روک تھام بل پر راجیہ سبھا میں حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرم بحث
نئی دہلی، 30 جولائی (ہ س)۔ راجیہ سبھا میں جمعرات کو پبلک امتحانات (غلط طورطریقوں کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026 پر بحث کے دوران حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے نے حکومت سے سوال کیا کہ پیپر لیک کو روکن
LS-PASSED-VANDEMATRAM-BILL


نئی دہلی، 30 جولائی (ہ س)۔ راجیہ سبھا میں جمعرات کو پبلک امتحانات (غلط طورطریقوں کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026 پر بحث کے دوران حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔

اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے نے حکومت سے سوال کیا کہ پیپر لیک کو روکنے کے لیے یہ بل پہلے کیوں پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت طلبا کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے بجائے سیاست کرنے میں مصروف ہے۔ کھرگے نے کہا کہ آپ یہ بل اصلاحات کے لیے نہیں بلکہ دہلی میں ہو رہے احتجاج کو روکنے کے لیے لائے ہیں۔

کھرگے نے کہا کہ حکومت کے تحت تحقیقاتی ایجنسیاں ہونے اور کئی ریاستوں میں بی جے پی کی ”ڈبل انجن“ حکومتیں ہونے کے وجود کے باوجود پیپر لیک ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر سی بی آئی، این ٹی اے اور ای ڈی جیسی ایجنسیاں پوری طرح آزادانہ طور پر کام کرتیں تو ایسی صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ قبل ازیں، جمعرات کو راجیہ سبھا میں پبلک امتحانات (غلط طور- طریقوں کی روک تھام) ترمیمی بل کو پیش کرتے ہوئے، وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ملک میں چار بڑی بھرتی ایجنسیاں - یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی)، ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ ( آر آر بی)، انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل سیلیکٹ بینکنگ ایجنسی (آئی پی ایس سی) اور اعلیٰ تعلیم کے داخلے کے امتحانات کے لئے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی ( این ٹی اے)- امتحانات کا انعقاد کرتی ہیں۔

نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی بنانے کا خیال پہلی بار 1992 میں پیش کیا گیا تھا، جب مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی۔ اس کے بعد کی کئی کمیٹیوں نے ایسی ایجنسی بنانے کی سفارش کی، لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔ جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے طویل عرصے سے زیر التوا اس کام کو پورا کیا ہے، اور اپوزیشن کو اس کے لیے ان کی تعریف کرنی چاہیے۔

جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت نے یہ ترامیم 2024 کے قانون کو نافذ کرنے سے حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر کی ہیں۔ یہ حکومت کی تجربے سے سیکھنے کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔

ترمیم شدہ بل میں پیپر لیک معاملوں کی تحقیقات دو ماہ میں مکمل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو سیشن عدالتوں کو خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں کے طور پر نامزد کرنے کا اختیار دیا جائے گا، جو چارج شیٹ داخل کرنے کے تین ماہ کے اندر روزانہ سماعت اور مقدمات کو نمٹانے کے قابل بنائے گی۔ بل میں مجرموں کے لیے سزائیں بھی سخت کی گئی ہیں۔ پبلک امتحانات میں پیپر لیک یا دیگر غلط طورطریقوں کے قصوروار پائے جانے والوں کو پانچ سے دس سال کی قید اور 50 لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ منظم گروہوں کے معاملات میں کم از کم سات سال کی سزا اور 10 کروڑ روپے تک کا جرمانہ دیا جاتا ہے۔ مرکزی حکومت ضرورت پڑنے پر اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) بھی قائم کر سکے گی۔

جتیندر سنگھ نے ایوان کو بتایا کہ 2024 کے قانون کے نافذ ہونے کے بعد سے اب تک 52 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور پیپر لیک سے متعلق خودکشیوں میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے ملک میں پیپر لیک ہونے کے کئی سابقہ واقعات کا بھی حوالہ دیا، جس پر ایوان میں اپوزیشن کی جانب سے احتجاج اور ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی ۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande