
نئی دہلی، 30 جولائی (ہ س)
ملک کے متعدد ممتاز سائنس دانوں اور ماہرینِ تعلیم نے جمعرات کو کانگریس رکنِ پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا کے نام ایک کھلا خط جاری کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں عوامی مباحثے کے وقار کو برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ جمہوری اداروں کی ساکھ کا انحصار اس بات پر ہے کہ عوامی زندگی میں اختلافِ رائے اور تنقید کس درجے کی زبان اور دلائل کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔
خط میں خاص طور پر آئی آئی ٹی مدراس کے ڈائریکٹر پروفیسر وی کامکوٹی کے بارے میں کئے گئے مبینہ تبصرہ پر تشویش ظاہر کیا گیاہے۔ دستخط کنندگان کا کہنا ہے کہ کسی سائنس دان یا ماہرِ تعلیم کے خیالات سے اختلاف فطری بات ہے، لیکن صرف ان کے عہدے، لقب یا ذاتی شناخت کی بنیاد پر انہیں مسترد کرنا صحت مند جمہوری روایت کے مطابق نہیں۔ ان کے مطابق سائنس دانوں اور ماہرینِ تعلیم کے نظریات کا جائزہ حقائق، تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
خط میں آئین ہند کے آرٹیکل 51(ک)(ح) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ سائنسی مزاج، انسان دوستی اور جستجو و اصلاح کے جذبے کو فروغ دے۔ ایسے میں عوامی نمائندوں سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ سائنسی موضوعات پر ذمہ داری، توازن اور حقائق کی بنیاد پر اظہارِ خیال کریں۔
دستخط کنندگان نے کہا کہ سائنس دانوں اور ماہرینِ تعلیم کو ایسا باوقار ماحول فراہم کیا جانا چاہیے جہاں وہ کسی ذاتی حملے یا تمسخر کے خوف کے بغیر اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں۔ اگر کسی سائنسی رائے سے اختلاف ہو تو اس کا جواب تحقیق، شواہد اور منطقی بحث کے ذریعے دیا جانا چاہیے، نہ کہ ذاتی تبصروں یا سیاسی طنز کے ذریعے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، صحتِ عامہ اور توانائی جیسے پیچیدہ سائنسی موضوعات کو سیاسی تمسخر کا نشانہ بنانے سے معاشرہ بامعنی اور باخبر بحث کے مواقع سے محروم ہو جاتا ہے۔ ایسے معاملات پر سنجیدہ گفتگو اور ماہرین کی آرا جمہوری فیصلہ سازی کے لیے ناگزیر ہیں۔
سائنس دانوں اور ماہرینِ تعلیم نے واضح کیا کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے اور تنقید کی مکمل گنجائش ہے، لیکن اختلاف کو ذاتی تمسخر کی شکل دینا مناسب نہیں۔ انہوں نے عوامی نمائندوں سے ذمہ دارانہ زبان، باوقار طرزِ عمل اور حقائق پر مبنی مکالمہ اختیار کرنے کی اپیل کی تاکہ پارلیمنٹ صحت مند اور تعمیری مباحثے کا مو¿ثر پلیٹ فارم بنا رہے۔
خط کے اختتام پر امید ظاہر کی گئی کہ آئندہ پارلیمنٹ اور عوامی زندگی میں سائنسی موضوعات پر گفتگو حقائق، شواہد اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہوگی۔ یہ کھلا خط پروفیسر جی ڈی یادو، پروفیسر پنکج متل سمیت متعدد سائنس دانوں اور ماہرینِ تعلیم کے اشتراک سے جاری کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ منگل کو لوک سبھا میں پرچہ لیک روکنے سے متعلق بل پر بحث کے دوران پرینکا گاندھی نے اپنے خطاب میں آئی آئی ٹی مدراس کے ڈائریکٹر پروفیسر وی کامکوٹی کو مبینہ طور پر گو¿موتر ماہر کہہ کر مخاطب کیا تھا، جس کے بعد سیاسی جماعتوں اور ماہرینِ تعلیم کے درمیان بڑا تنازع کھڑا ہو گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ